اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے سہولت اکاؤنٹس کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری حد کو 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیا ہے، سرمایہ کاری کی اس حد کو بڑھانے سے چھوٹے ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری مزید سہل ہو جائے گی ۔ ہفتہ کوایس ای سی پی کی جانب سے جاری بیان کے …
چھوٹے سرمایہ کاروں کے لیے اسٹاک مارکیٹ تک رسائی آسان بنانے کے اقدامات، ایس ای سی پی

مزید خبریں
اسلام آباد۔14مارچ (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے سہولت اکاؤنٹس کے ذریعے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری حد کو 10 لاکھ روپے سے بڑھا کر 30 لاکھ روپے کر دیا ہے، سرمایہ کاری کی اس حد کو بڑھانے سے چھوٹے ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری مزید سہل ہو جائے گی ۔ ہفتہ کوایس ای سی پی کی جانب سے جاری بیان کے مطابق ایس ای سی پی نے سرمایہ کاروں کو یہ سہولت بھی فراہم کر دی ہے کہ وہ اب ایک سے زائد سیکیورٹیز بروکرز کے ساتھ سہولت اکاؤنٹس کھول سکیں گے، جس سے انہیں بروکریج خدمات کے انتخاب میں مزید آپشنز دستیاب ہو سکیں گے۔ تاہم ہر سرمایہ کار ایک بروکر کے ساتھ صرف ایک سہولت اکاؤنٹ ہی رکھ سکے گا۔ یہ اصلاحات بینکاری اور میوچل فنڈز کے شعبوں میں رائج طریقہ کار سے ہم آہنگ ہیں۔سہولت اکاؤنٹ اسکیم چھوٹے سرمایہ کاروں کو اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کا آسان اور سادہ طریقہ کار فراہم کرتے ہیں ۔
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کے لیے سہولت اکاوّئنٹ صرف کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) جمع کرا کے کسی بھی لائسنس یافتہ سیکیورٹیز بروکر کے ساتھ کھولا جا سکتا ہے۔سہولت اکاوئنٹ کم رسک والے ریٹیل سرمایہ کاروں اور پہلی بار سرمایہ کاری کرنے والے افراد کے لیے موزوں ہےجو روایتی اکاؤنٹ کھولنے کے پیچیدہ طریقہ کار کی وجہ سے سرمایہ کاری سے ہچکچاتے ہیں۔ اس وقت تمام لائسنس یافتہ سیکیورٹیز بروکرز سہولت اکاؤنٹس کی سہولت فراہم کر رہے ہیں۔ سہولت اکاونٹ آن لائن بھی کھولے جا سکتے ہیں۔ اس وقت اسٹاک مارکیٹ میں انفرادی سب اکاؤنٹس کی مجموعی تعداد 542,748 ہے۔ ان میں سے 144,634 اکاؤنٹس انویسٹر اکاؤنٹس (انفرادی) ہیں، جن میں روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کے سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔
ایس ای سی پی کپیٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کو مزید آسان بنانے کے لیے اصلاحات جاری رکھے گا تاکہ نوجوان سرمایہ کار اعتماد کے ساتھ پاکستان کی کیپٹل مارکیٹ میں سرمایہ کاری کریں اور غیر مجاز نان ریگولیٹرڈ غیر ملکی سرمایہ کاری پلیٹ فارمز میں تجربات کرنے سے گریز کریں۔








