کے پی ٹی کی 140 ایکڑ اراضی پر میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ کے قیام کے لیے ایم او یو پر دستخط ،پاکستان کو علاقائی بحری تجارت ، سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کا ہدف ہے، وفاقی وزیر بحری امور

وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی ساحلی اراضی پر عالمی معیار کے میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ کی ترقی کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے ہیں

اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان نے سعودی اور مقامی شراکت داروں کے ساتھ کراچی پورٹ ٹرسٹ (کے پی ٹی) کی ساحلی اراضی پر عالمی معیار کے میری ٹائم بزنس ڈسٹرکٹ کی ترقی کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کر دیئے ہیں۔ایم او یو پر دستخط سعودی پاکستان جوائنٹ بزنس کونسل (جے بی سی) کے اعلیٰ سطحی وفد کے دورۂ پاکستان کے دوران کئے گئے۔ معاہدے پر کراچی پورٹ ٹرسٹ، سعودی بزنس کونسل، نجد گیٹ وے ہولڈنگ کمپنی، عارف حبیب ڈولمین ریئٹ مینجمنٹ لمیٹڈ (اے ایچ ڈی آر ایم ایل) اور پاکستان کارپوریٹ کنسورشیم کے درمیان اتفاق ہوا۔وزاعر بحری امور کے مطابق وفاقی وزیر نے کہا مجوزہ منصوبہ کراچی میں ایم ٹی خان روڈ پر واقع کراچی پورٹ ٹرسٹ کی 140 ایکڑ اراضی پر تعمیر کیا جائے گا، جس کا مقصد علاقے کو ایک جدید تجارتی اور بحری مرکز میں تبدیل کرنا ہے جس کے تحت جدید تجارتی انفراسٹرکچر قائم کیا جائے گا تاکہ ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دیا جا سکے، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں اور شہری ترقی کے عمل کو مزید تقویت ملے۔وفاقی وزیر محمد جنید انوار چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ اسٹریٹجک شراکت داری کراچی پورٹ ٹرسٹ کے ساحلی اثاثوں کی مکمل صلاحیت بروئے کار لانے اور پاکستان کو بحری تجارت و سرمایہ کاری کے علاقائی مرکز کے طور پر ابھارنے کا ایک تاریخی موقع ہے۔وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ منصوبے پر عمل درآمد سے قبل پاکستانی قوانین کے تحت تمام قانونی اور ریگولیٹری تقاضے پورے کئے جائیں گے۔دریں اثنا سعودی وفد کے ارکان نے بحری شعبے میں وسیع تر تعاون، بندرگاہی انفراسٹرکچر کی ترقی اور متعلقہ منصوبوں میں ممکنہ سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔محمد جنید انوار چوہدری کا کہنا تھا کہ سعودی وفد کا یہ دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور بندرگاہوں، لاجسٹکس، انفراسٹرکچر اور تجارتی سہولت کاری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کرنے کی وسیع کوششوں کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ متعلقہ اداروں کی منظوریوں سے مشروط یہ منصوبہ خطے کے سب سے بڑے ساحلی تجارتی ترقیاتی منصوبوں میں شمار ہو سکتا ہے۔