بھارت ،اسپتال میں میرے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا، سونم وانگچک

"سونم وانگچک نے الزام عائد کیا ہے کہ احتجاجی مقام سے زبردستی اسپتال منتقل کر کے ان کے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا۔”

نئی دہلی ۔25جولائی (اے پی پی):غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک نے کہا ہے کہ 18 جولائی کو پولیس مجھے احتجاجی مقام سے زبردستی اٹھا کر اسپتال لے گئی جہاں میرے ساتھ قیدیوں جیسا سلوک کیا گیا۔

کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق سونم وانگچک نے اپنے تازہ بیان میں کہا کہ سرکاری اسپتال کو ایک طرح سے چھائو نی میں تبدیل کیاگیا تھا، مجھے کمرے سے باہر جانے، ملاقات کرنے اور موبائل فون یا لیپ ٹاپ رکھنے کی اجازت نہیں تھی۔انہوں نے کہا بعد میں نجی اسپتال منتقل کئے جانے کے باوجود میری نقل و حرکت پر پابندیاں برقرار رکھی گئیں اور بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات رہے۔انہوں نے کہا کہ مجھے سب سے زیادہ افسوس اس بات کا ہے کہ میرے ساتھی، طلباءاور حمایت کرنے والے ارکانِ پارلیمنٹ بھوک ہڑتال ختم کرنے کے وقت میرے ساتھ موجود نہیں تھے۔سونم وانگچک نے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے فیصلے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر مجھے کوئی معاہدہ کرنا ہوتا تو میں 26 دن تک بھوک ہڑتال نہ کرتا۔انہوں نے کہا کہ مجھے خدشہ تھا کہ احتجاج کرنے والے طلباءکے خلاف سخت کارروائی ہو سکتی ہے، اسی لیے میں نے امن قائم رکھنے اور حالات کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے ہڑتال ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔سونم وانگچک کے مطابق مرکزی وزراءجے پی نڈا اور جیتیندر سنگھ نے اسپتال میں ان سے ملاقات کی اور پارلیمنٹ میں بحث، معاوضے پر غور اور احتجاج کرنے والوں کے خلاف مقدمات نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہا کہ ابتداء میں حکومت صرف زبانی یقین دہانی کرا رہی تھی لیکن میں نے تحریری ضمانت پر اصرار کیا اور اس کے بعد ہڑتال ختم کی۔