لاہور۔15مارچ (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ جدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی صنعتی مسابقت، برآمدات میں اضافہ، شہری پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اتوار کو یہاں "توانائی میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری" کے موضوع پر سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں جو توانائی کی آخری سطح تک …
توانائی شعبے میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری صنعتی ترقی کیلئے ناگزیر ہے،سیف الرحمان
لاہور۔15مارچ (اے پی پی):وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ جدید توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی صنعتی مسابقت، برآمدات میں اضافہ، شہری پیداواری صلاحیت اور روزگار کے مواقع کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اتوار کو یہاں "توانائی میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری” کے موضوع پر سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سرکاری ڈسٹری بیوشن کمپنیاں جو توانائی کی آخری سطح تک فراہمی کی ذمہ دار ہیں، تکنیکی نقصانات، ناقص وصولی کارکردگی اور مالی دبائو کے بوجھ تلے دبے ہوئی ہیں، یہ ساختی خامیاں بجلی کے شعبے کے مجموعی سرکلر قرض کا مرکزی سبب بنی ہوئی ہیں۔
سیف الرحمان نے کہا کہ حکومت کو توانائی کے شعبے میں پبلک پرائیویٹ شراکت داری پر نظرِ ثانی کرنی چاہیے تاکہ صنعتی پیداوار، شہری ترقی، چھوٹے کاروبار اور گھریلو صارفین کے لیے قابلِ اعتماد بجلی فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ابھرتی ہوئی مارکیٹس کے تجربات بھی سبق آموز ہیں، برازیل کی 1990 کی دہائی میں بجلی کی اصلاحات اس بات کی مثال ہیں کہ نجی شعبے کی شمولیت، موثر نگرانی کے تحت قابلِ قدر عملی فوائد فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ میں 1980 کی دہائی کے آخر میں بجلی کے اداروں کی نجکاری اصلاحات کی سب سے زیادہ حوالہ دی جانے والی مثال ہے۔ اس کے بعد بجلی کی فراہمی کی بھروسہ مندی میں اضافہ ہوا، سروس کے معیار کے معیارات مضبوط اور سرمایہ کاری کی سطح طویل عرصے تک مستحکم رہی۔ سیف الرحمان نے کہا کہ واضح اور شفاف پبلک پرائیویٹ شراکت داری ملک کو توانائی کے بحران سے نکال سکتی اور جدید سائنسی بنیادوں پر ٹرانسمیشن نیٹ ورک کو بڑھا کر بہتر گورننس یقینی بنا سکتی ہے۔









