لندن۔16مارچ (اے پی پی):برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں یوم القدس کے موقع پر فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مارچ پر حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔ اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ ایسے مظاہروں پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے تناظر میں پابندی عائد کی گئی تھی۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق 2012 کے …
لندن میں القدس مارچ پر پابندی کے باوجود سینکڑوں افراد کی شرکت ، درجن بھر گرفتار

مزید خبریں
لندن۔16مارچ (اے پی پی):برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں یوم القدس کے موقع پر فلسطین کی حمایت میں ہونے والے مارچ پر حکومت کی طرف سے پابندی کے باوجود سینکڑوں افراد نے شرکت کی ۔ اے ایف پی کے مطابق برطانوی وزیر داخلہ شبانہ محمود نے کہا کہ ایسے مظاہروں پر مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعے کے تناظر میں پابندی عائد کی گئی تھی۔ لندن میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق 2012 کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دارالحکومت میں احتجاجی مارچ پر پابندی عائد کی گئی ہے ۔پولیس نے یوم القدس کی سالانہ تقریب اور اسرائیل کی حمایت میں جمع ہونے والے مظاہرین کو پارلیمنٹ سے دور دریائے ٹیمز کے مخالف کناروں پر جمع ہونے کی اجازت دی تھی تاہم انہیں مارچ کی اجازت نہیں دی گئی ۔
فلسطین کے حامی مظاہرین جن کو دریا ئے ٹیمز کے جنوب کی طرف جمع ہونے کی اجازت دی گئی تھی ،نے فلسطین کے جھنڈے اور غزہ میں اسرائیل کے جنگی جرائم بند کرو جیسے نعرے والے پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔جنوبی لندن کے پورلے سے تعلق رکھنے والی 81 سالہ پنشنر جین ایپس نے کہا کہ میں شدت سے محسوس کرتی ہوں کہ فلسطینیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہے وہ انتہائی ناانصافی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وہ ایران پر اسرائیل اور امریکا کے غیر قانونی حملوں کی وجہ سے اس احتجاج میں شریک ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام کو اپنے مسائل خود حل کرنے کے لیے چھوڑ دیا جانا چاہیے۔ دریا کے دوسری طرف جمع ہونے والے مظاہرین نے امریکی اور اسرائیلی پرچم لہرائے اور جلاوطن ایرانی رہنما رضا پہلوی کی حمایت میں بھی نعرے لگائے۔برطانوی این جی او اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن ( آئی ایچ آر سی ) جو سالانہ القدس ڈے مارچ کا اہتمام کرتی ہے، نے اس تقریب پر پابندی عائد کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ۔ اسلامک ہیومن رائٹس کمیشن کی طرف سے کہا گیا ہے کہ لندن پولیس بغیر کسی ثبوت کےآئی ایچ آر سی بارے اسرائیلی موقف کواپنائے ہوئے ہے اور یہ مارچ فلسطینیوں اور دنیا بھر کے تمام مظلوموں کی حمایت میں ایک بین الاقوامی مظاہرہ تھا۔
ریلی میں شریک 19 سالہ علی نے کہا کہ وہ مظلوموں کے ساتھ کھڑے ہونے کے لیے موجود ہیں۔الجزیرہ کے مطابق اس موقع پر امن کو یقینی بنانے کے لئے ایک ہزار پولیس اہلکار تعینات کئے گئے تھے جنہوں نے مختلف الزامات کے تحت درجن بھر مظاہرین کو گرفتار کیا۔ الجزیرہ کے مطابق اس موقع پر اسرائیل کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والوں کی تعداد فلسطین کی حمایت میں مظاہرہ کرنے والوں سے بہت کم تھی۔ واضح رہے کہ یوم القدس ہر سال مختلف ممالک میں منایا جاتا ہے، اس کا مقصد بیت المقدس پر اسرائیل کے قبضے کے خلاف احتجاج کرنا ہے۔








