امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونےوالے بحران کو حل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ امریکی اتحادی آبنائے ہرمز کے بحران میں ہماری مدد کرنے میں ناکام رہے تو نیٹو کو بہت برے مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اتحادی آبنائے ہرمز کے بحران میں ہماری مدد کرنے میں ناکام رہے تو نیٹو کو بہت برے مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا، امریکی صدر

مزید خبریں
بلغراد۔16مارچ (اے پی پی):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آبنائے ہرمز کی بندش سے پیدا ہونےوالے بحران کو حل کرنے کے لیے دوسرے ممالک سے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور انہوں نے کہا ہے کہ امریکی اتحادی آبنائے ہرمز کے بحران میں ہماری مدد کرنے میں ناکام رہے تو نیٹو کو بہت برے مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ سی این این کے مطابق انہوں نے اس سلسلہ میں چین پر زور دیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں رکاوٹوں کو دور کرنے میں مدد کرے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس ماہ کے آخر میں چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات سے قبل چین کا موقف جاننا پسند کریں گے۔ امریکی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے رابطوں کے بعد امریکا کو کچھ مثبت جواب ملا ہے لیکن کچھ ممالک نے کہا ہے کہ اس میں شامل نہیں ہوں گے تاہم امریکی صدر نے ان ممالک کے نام بتانے سے انکار کر دیا جن سے ان کی انتظامیہ نے اس حوالے سے رابطے کیے تھے۔
امریکی صدر نے خبردار کیا کہ اگر ہمارے اتحادی آبنائے ہرمز کے بحران میں ہماری مدد کرنے میں ناکام رہے تو نیٹو کو بہت برے مستقبل کا سامنا کرنا پڑے گا۔ مناسب یہی ہے کہ وہ لوگ جو آبنائے سے فائدہ اٹھانے والے ہیں اس بات کو یقینی بنانے میں مدد کریں کہ وہاں کچھ برا نہ ہو ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی بات کا کوئی جواب نہیں آتا ہے یا اگر یہ منفی ردعمل ہے تو میرے خیال میں یہ نیٹو کے مستقبل کے لیے بہت برا ہو گا۔ امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ جنگ میں میرے خیال میں ہمارے ایک جیسے مقاصد ہیں ،لیکن تھوڑا مختلف بھی ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے دونوں ممالک کی فوجوں کے درمیان قریبی رابطوں پر بھی زور دیا۔ جاپان کی وزیر اعظم سنائے تاکائیچی نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا کہ جاپان فی الحال آبنائے ہرمز میں بحری جہاز بھیجنے کا منصوبہ نہیں بنا رہا ہے۔ ہم نے ابھی تک بحری جہازوں کی روانگی کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا ہے۔ ہم فی الحال اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ جاپان اپنے قانونی فریم ورک کے اندر آزادانہ طور پر کیا کر سکتا ہے ۔آسٹریلوی وزیر ٹرانسپورٹ کیتھرین کنگ نے کہا کہ آسٹریلیا اپنے بحری جہاز ا آبنائے ہرمز نہیں بھیجے گا ۔
جنوبی کوریا کے حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی صدر کی درخواست کا بغور جائزہ لیں گے، اس معاملے پر امریکا کے ساتھ قریبی رابطہ کریں گے اور اس کے بعد کوئی فیصلہ کریں گے۔ برطانیہ کے وزیر توانائی ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ برطانیہ آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے میں مدد کے لیے کسی بھی آپشن کی تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مختلف طریقے ہیں جن سے ہم اپنا حصہ ڈال سکتے ہیں اور یہ کہ ان اختیارات پر اتحادیوں کے ساتھ بات چیت کی جا رہی ہے۔
امریکا میں میں چین کے سفارت خانے کے ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ آیا ان کا ملک خطے میں بحری اثاثے تعینات کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے یا نہیں لیکن انہوں نے جنگ کو فوری طور پر روکنے کا مطالبے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ تمام فریقوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ مستحکم اور بلا رکاوٹ توانائی کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔








