سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمپنی لا کی کمپلائنس میں سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس اور سالانہ ریٹرنز جمع نہ کروانے اور سالانہ جنرل اجلاس منعقد نہ کرنے پر 41 سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔
ایس ای سی پی نے 41 سرکاری کمپنیوں کو کمپنی لا کی خلاف ورزیوں پرشو کاز نوٹس جاری کر دیئے
اسلام آباد۔17مارچ (اے پی پی):سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے کمپنی لا کی کمپلائنس میں سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس اور سالانہ ریٹرنز جمع نہ کروانے اور سالانہ جنرل اجلاس منعقد نہ کرنے پر 41 سرکاری ملکیتی کمپنیوں کو شوکاز نوٹس جاری کر دیے ہیں۔منگل کو سکیورٹیز ایکسچینج کمیشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق شوکاز نوٹس پر قانونی کارروائی کے لیے سماعتوں کی تاریخیں بھی مقرر کر دی گئی ہیں۔ایس ایس ی پی کے اس اقدام کا مقصد حکومتی ملکیتی کمپنیوں میں کارپوریٹ گورننس کو بہتر بنانے کے حکومتی اصلاحاتی ایجنڈے کا حصہ ہے۔کمپنی لا کی تعمیل کے جائزے میں دیکھا گیا ہے کہ 4 سرکاری ملکیتی کمپنیاں اس وقت بغیر چیف ایگزیکٹو آفیسر کے کام کر رہی ہیں۔
ایس ای سی پی نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹو افیسر کے عہدے پر جلد از جلد تعیناتیاں کی جائیں۔ اس حوالے سے کمیشن نے متعلقہ وزارتوں اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کو ارسال کر دیں ہیں۔حکومت کی ملکیت میں چلنے والی 109 سرکاری کمپنیوں میں سے 33 اداروں نے اپنے سالانہ آڈٹ شدہ اکاؤنٹس جمع نہیں کروائے جبکہ 26 کمپنیوں نے سالانہ ریٹرنز بھی جمع نہیں کروائے۔ اس کے علاوہ 7 کمپنیوں نے سالانہ جنرل اجلاس منعقد نہیں کیے ۔ اس طرح مجموعی طور پر 41 کمپنیوں کو 66 شوکاز نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔شوکاز نوٹسز پر قانونی کارروائی مکمل ہونے کے بعد، کارپوریٹ لا کی خلاف ورزی پائے جانے پر متعلقہ سرکاری کمپنیوں کے خلاف قانون کے مطابق جرمانے عائد کیے جانے کا فیصلہ کیا جائے گا ۔
ان کمپنیوں کے نام ایس ای سی پی کی ویب سائٹ پر شائع کیے جائیں حے۔ ایس ای سی پی کے فیصلے کی کاپی متعلقہ پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز اور سینٹرل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈائریکٹر جنرل کو بھی ارسال کی جائیں گی۔علاوہ ازیں ، اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے کمپنی لا کے مطابق ، اب تک کمیشن کو 31 دسمبر 2024 کو ختم ہونے والے مالی سال کے آڈٹ شدہ مالیاتی گوشوارے جمع نہیں کروائے۔ ایس ای سی پی نے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر کو فوری طور پر اکاؤنٹس جمع کروانے کی ہدایت کی ہے اور خبردار کیا ہے کہ عدم تعمیل کی صورت میں ریگولیٹری کارروائی کی جائے گی۔کمپنی لا کی تعمیل کے جائزے میں دیکھا گیا ہے کہ 48 کمپنیوں کے بورڈ کی تشکیل میں قانون کے مطابق خواتین کی نمائندگی موجود نہیں ہے۔
اس معاملے پر کمیشن نے متعلقہ وزارتوں کے پرنسپل اکاؤنٹنگ آفیسرز کو کمپنیوں کے بورڈ پر خواتین کی تعیناتی یقینی بنانے کے لیے لکھ دیا گیا ہے ۔سٹیٹ آئونڈ انٹر پرائزیز میں کمپنی لا کے قانون کی تعمیل کو مؤثر بنانے کے لیے ایس ای سی پی نے ایک جامع انفورسمنٹ پلان تیار کیا ہے تاکہ سرکاری اداروں کی مالی رپورٹنگ اور گورننس پر مؤثر نظر رکھی جا سکے۔ اس سلسلے میں ایس ای سی پی نے ایک خصوصی ونگ بھی قائم کیا گیا ہے تا کہ سرکاری اداروں میں ریگولیٹری کمپلائنس کو بہتر بنایا جائے۔ یہ خصوصی ونگ ان کمپنیوں کی ریگولیٹری کمپلائنس کے لیے رہنمائی اور معاونت بھی فراہم کرے گا۔









