اقوام متحدہ۔18مارچ (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ غیر ریاستی عناصر کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) تک رسائی سے روکنے کے لیے ایک موثر، غیر امتیازی، غیر جانبدار ، معروضی اور اصولوں پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کو 15 رکنی کمیٹی کے پینل جسے 1540 کمیٹی کے …
غیر ریاستی عناصر کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کے لیے موثر حکمتِ عملی اپنائی جائے، پاکستان

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔18مارچ (اے پی پی):پاکستان نے کہا ہے کہ غیر ریاستی عناصر کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈی) تک رسائی سے روکنے کے لیے ایک موثر، غیر امتیازی، غیر جانبدار ، معروضی اور اصولوں پر مبنی حکمتِ عملی اپنائی جائے۔ یہ بات اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب عثمان جدون نے سلامتی کونسل کو 15 رکنی کمیٹی کے پینل جسے 1540 کمیٹی کے نام سے جانا جاتا ہے، پر بریفنگ کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی حالات جن میں تنازعات، کشیدگیاں اور سکیورٹی چیلنجز شامل ہیں، میں جوہری عدم پھیلائو کی کوششوں کو فروغ دینا پہلے سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے۔
یہ کمیٹی اس لیے قائم کی گئی ہے کہ وہ رکن ممالک کی نگرانی کرے اور ان کی مدد کرے تاکہ وہ قرارداد 1540 (2004) پر عمل درآمد کر سکیں۔ یہ قرارداد اقوامِ متحدہ کے تمام رکن ممالک کو قانونی طور پر پابند کرتی ہے کہ وہ غیر ریاستی عناصر کو جوہری، کیمیائی یا حیاتیاتی ہتھیاروں اور ان کے ترسیلی نظام کے حصول، تیاری یا استعمال سے روکیں۔ پاکستانی مندوب نے اس بات کی نشاندہی کی کہ غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں (ڈبلیو ایم ڈیز) کے حصول اور استعمال کا امکان رکن ممالک کی قومی سلامتی اور عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ غیر ریاستی عناصر اور دہشت گرد سرگرمیوں کی بدلتی ہوئی نوعیت اس بات کو اجاگر کرتی ہے کہ رضاکارانہ بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ کوششوں کو مزید مضبوط بنایا جائے تاکہ قرارداد 1540 پر موثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ رکن ممالک کو ان پیش رفتوں سے باخبر رہنا چاہیے اور 1540 کمیٹی ان خطرات کے بارے میں عالمی سطح پر آگاہی بڑھانے اور ان کے مشترکہ ردِعمل کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ کثیرالجہتی برآمدی کنٹرول نظام عالمی جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، تاہم ان نظاموں کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیاسی اور تجارتی مفادات کو ترجیح دینے والے محدود یا مخصوص گروہوں کی شکل اختیار نہ کریں۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ منتخب استثنا عالمی عدم پھیلاؤ کے نظام کی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں اور علاقائی و عالمی امن و سلامتی کو مزید غیر مستحکم کرنے کا خطرہ پیدا کرتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو دوہری استعمال کی ٹیکنالوجیز کے پرامن استعمال میں بین الاقوامی تعاون میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے، جو تمام رکن ممالک بالخصوص گلوبل ساؤتھ کی اقتصادی ترقی کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہاکہ تمام ممالک کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ عدم پھیلاؤ اور بین الاقوامی قانونی ذمہ داریوں کے مطابق پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی اور ٹیکنالوجی کے استعمال کا اپنا ناقابلِ تنسیخ حق استعمال کر سکیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس حوالے سے مزید کام، بشمول 1540 کمیٹی کے اندر ایسا ہونا چاہیے جو ٹیکنالوجی تک منصفانہ اور بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنائے جبکہ عالمی عدم پھیلاؤ کے مقاصد کو بھی فروغ دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ عدم پھیلاؤ اور پُرامن تکنیکی ترقی ایک دوسرے کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرتے ہیں، بشرطیکہ انہیں غیر امتیازی بنیادوں پر باہمی تعاون کے ذریعے آگے بڑھایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان قرارداد 1540 کے نفاذ کے لیے جاری جامع جائزے سمیت 1540 کمیٹی کے کام میں اپنی فعال شرکت جاری رکھے گا، جو اس قرارداد پر عمل درآمد کے لیے ایک اہم عمل ہے۔ اجلاس کے آغاز میں پاناما کے سفیر ایلوئے الفارو ڈی البا نے گزشتہ چند ماہ کے دوران کمیٹی کی پیش رفت پر بریفنگ دی۔








