واشنگٹن۔18مارچ (اے پی پی):امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے انسپکٹر جنرل دفتر نے یوکرین کو فراہم کی جانے والی 26 ارب ڈالر کی امداد سے متعلق رپورٹنگ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ تاس کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایڈم کیپلان نے امریکی کانگریس کی ہائوس فارن افیئرز کمیٹی میں سماعت کے دوران کہا کہ یوکرین میں یو ایس ایڈ کی جانب سے براہ راست …
یوکرین کو 26 ارب ڈالر امداد کی فراہمی میں بے ضابطگیوں کا انکشاف

مزید خبریں
واشنگٹن۔18مارچ (اے پی پی):امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی (یو ایس ایڈ) کے انسپکٹر جنرل دفتر نے یوکرین کو فراہم کی جانے والی 26 ارب ڈالر کی امداد سے متعلق رپورٹنگ میں بے ضابطگیوں کا انکشاف کیا ہے۔ تاس کے مطابق ڈپٹی انسپکٹر جنرل ایڈم کیپلان نے امریکی کانگریس کی ہائوس فارن افیئرز کمیٹی میں سماعت کے دوران کہا کہ یوکرین میں یو ایس ایڈ کی جانب سے براہ راست بجٹ معاونت کی نگرانی کے لیے مقرر کیے گئے ٹھیکیدار مطلوبہ رپورٹس وقت پر فراہم کرنے میں ناکام رہے یا بعض صورتوں میں رپورٹس سرے سے جمع ہی نہیں کرائی گئیں۔
سماعت میں دیگر ممالک کو فراہم کی جانے والی امریکی امداد میں بھی بے ضابطگیوں کا جائزہ لیا گیا۔ایڈم کیپلان نے بتایا کہ امریکی انتظامیہ اس سے قبل آڈٹ کے لیے یوکرین سمیت آٹھ ممالک میں ٹیمیں بھیج چکی ہے تاکہ فراہم کی گئی امداد کا حساب لیا جا سکے۔ انہوں نے واضح کیا کہ انسپکٹر جنرل کے دفتر میں کل وقتی فوجداری تفتیش کار موجود ہیں جو کیف میں تعینات ہیں اور یوکرین کو دی جانے والی غیر فوجی امریکی امداد میں دھوکہ دہی اور بدعنوانی کے معاملات کی تحقیقات کر رہے ہیں تاہم انہوں نے ان کیسز کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔








