پاکستان انویسٹمنٹ پوٹینشل سمٹ میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے ترتیب دی گئی سفارشات حکومت کو پیش کی جائیں گی، سردار طاہر محمود

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):پاکستان انویسٹمنٹ پوٹینشل سمٹ کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کار ماہرین کے درمیان اس اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ پاکستان کے پاس پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔بدھ کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی …

اسلام آباد۔18مارچ (اے پی پی):پاکستان انویسٹمنٹ پوٹینشل سمٹ کاروباری رہنماؤں اور سرمایہ کار ماہرین کے درمیان اس اتفاق رائے کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی کہ پاکستان کے پاس پائیدار اقتصادی ترقی کے فروغ اور مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہے۔بدھ کو اسلام آباد چیمبر آف کامرس کی جانب سے جاری بیان کے مطابق اسلام آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (آئی سی سی آئی) کے صدر سردار طاہر محمود کی میزبانی میں اسلام آباد میں منعقدہ سمٹ میں ملک میں سرمایہ کاری اور اقتصادی ترقی کے فروغ کی حکمت عملیوں پر غور کرنے کے لئے تاجر برادری کی سرکردہ شخصیات کو اکٹھا کیا گیا۔ نمایاں مقررین میں وزیراعظم کے مشیر برائے سیاحت سردار یاسر الیاس خان،نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے چیئرمین چوہدری عبدالمجید، صدر آئی سی سی آئی سردار طاہر محمود اور نجی ہائوسنگ سوسائٹی کے ڈائریکٹر زوہیر مجید شامل تھے۔ یاد رہے کہ یہ سفارشات غور و خوص کے لئے حکومت کو پیش کی جائیں گی۔ مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع، بڑی مارکیٹ، نوجوانوں کی آبادی اور متنوع قدرتی وسائل معاشی وسعت کے لئے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ رئیل اسٹیٹ، سیاحت، مہمان نوازی، تعمیرات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، زراعت، توانائی اور مینوفیکچرنگ سمیت اہم شعبے سرمایہ کاری کے لئے خاطر خواہ مواقع فراہم کرتے ہیں اور اگر ترقی پسند پالیسیوں اور مستحکم کاروباری ماحول کی حمایت حاصل ہو تو معاشی ترقی کو تیز کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں مزید زور دیا گیا کہ پاکستان ایک علاقائی اقتصادی مرکز بننے کے لئے اچھی پوزیشن میں ہے بشرطیکہ ڈھانچہ جاتی اصلاحات نافذ کی جائیں اور مستقل اقتصادی پالیسیوں کے ذریعے سرمایہ کاروں کا اعتماد مضبوط ہو۔اس مقصد کے لئے اجلاس نے درج ذیل اقدامات کی سفارش کی جن میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے فروغ کے لئے پالیسی استحکام کو یقینی بنانا،ریگولیٹری اصلاحات، سرکاری خدمات کی ڈیجیٹلائزیشن اور آسان طریقہ کار کے ذریعے کاروبار کرنے میں آسانی کو بہتر بنانا۔ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لئے سرمایہ کاری کے لئے موزوں ٹیکس پالیسیاں اور مراعات متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچے کی ترقی کوخاص طور پر ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور توانائی کے شعبوں میں بہتری کرنا اور صنعتی ترقی کو آسان بنانے کے لئے خصوصی اقتصادی زونز (ایس ایز) اور صنعتی کلسٹرز کو فروغ دینا۔بڑے ترقیاتی اور بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پی پی پی) کو مضبوط بنانا،زرمبادلہ کی آمدنی اور صنعتی پیداواری صلاحیت کو بڑھانے کے لئے برآمدات کے فروغ کے اقدامات کیساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی کے لئے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور آئی ٹی ایکو سسٹم کو بڑھانا،پاکستان کے قدرتی اور ثقافتی اثاثوں سے فائدہ اٹھانے کے لئے سیاحت کے بنیادی ڈھانچے اور مہمان نوازی کی خدمات کو ترقی دینا۔

پائیدار شہری ترقی کی حوصلہ افزائی کرنا اور اقتصادی توسیع میں مدد کے لئے ریئل اسٹیٹ کی جدید منصوبہ بندی کے علاوہ کاروبار اور جدت کو فروغ دینے کے لیے SMEs اور سٹارٹ اپس کے لئے فنانس تک رسائی کو بہتر بنانا،سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لئے شفاف اور موثر ریگولیٹری فریم ورک کو یقینی بنانا۔نوجوانوں کو مارکیٹ سے متعلقہ مہارتوں سے آراستہ کرنے کے لئے پیشہ وارانہ تربیت اور ہنرمندی کی ترقی کے پروگراموں کو مضبوط بنانا اور اقتصادی سفارت کاری اور عالمی سرمایہ کاری فورمز کے ذریعے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے مثبت سرمایہ کاری کے بیانیے کو فروغ دیناشامل ہے۔شرکاء نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ان سفارشات پر عملدرآمد سے سرمایہ کاری اور کاروبار دوست ماحول پیدا کرنے، اقتصادی سرگرمیوں کو تحریک دینے، سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھانے میں مدد ملے گی۔