ایران کے امریکا کے لئے فوری خطرہ ہونے کے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے ، اسرائیل نے صدر ٹرمپ کو حملے کے لئے مجبور کیا ، امریکا کے نیشنل کائونٹر ٹیرارزم سینٹر کے مستعفی سربراہ کا انکشاف

واشنگٹن ۔19مارچ (اے پی پی):امریکی ادارے نیشنل کائونٹر ٹیرارزم سینٹر کے مستعفی ہونے والے سربراہ جو کینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کے پاس ایران کے امریکا کے لئے فوری خطرہ ہونے کے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے اس کے باوجود اسرائیل نے انہیں ایران پر حملے کے لئے مجبور کیا ۔جو کینٹ جنہوں نےچند دن قبل ایران جنگ بارے خدشات پر اپنے عہدے سے استعفا دیا تھا …

واشنگٹن ۔19مارچ (اے پی پی):امریکی ادارے نیشنل کائونٹر ٹیرارزم سینٹر کے مستعفی ہونے والے سربراہ جو کینٹ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکی صدر کے پاس ایران کے امریکا کے لئے فوری خطرہ ہونے کے کوئی ثبوت موجود نہیں تھے اس کے باوجود اسرائیل نے انہیں ایران پر حملے کے لئے مجبور کیا ۔جو کینٹ جنہوں نےچند دن قبل ایران جنگ بارے خدشات پر اپنے عہدے سے استعفا دیا تھا ،نے ان خیالات کا اظہار معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن کے شو میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ کے مطابق جو کینٹ نے کہا کہ ان کو اور دیگر کئی سینئر امریکی عہدیداروں کو اس بات کی اجازت نہیں دی گئی کہ وہ صدر کو ایران پر حملے کے خطرات سے آگاہ کرسکیں اور امریکی صدر نے ایران پر حملہ کرنے کا فیصلہ کرنے کے لیے مشیروں کے ایک چھوٹے سے حلقے پر انحصار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اہم فیصلہ سازوں کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سامنے اپنی رائے کا اظہار کرنے کی اجازت نہیں تھی اور نہ ہی ایران پر حملے کے فیصلے سے قبل اس حوالے سے کوئی جامع بحث کرائی گئی۔ جو کینٹ نے یہ انکشاف بھی کیا کہ امریکی انتظامیہ کے ارکان کے اندر بھی ایران پر حملوں کے حوالے سے خدشات موجود تھے تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ان کوایران پر حملے کے نتائج بارے اپنے خدشات سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو آگاہ کرنے سے کس نے روکا تھا۔ ان کا یہ انکشاف صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے کے فیصلے کی اندرونی کہانی کی جھلک پیش کرتے ہوئے اس خطرے کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ جنگ ان کی سیاسی بنیاد کو تقسیم کر سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایس کوئی خفیہ اطلاع نہیں تھی کی کہ ایران جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے کام کر رہا ہے ۔ جو کینٹ نے کہا کہ ان کا خیال ہے کہ اسرائیل نے حملہ کرنے کا وعدہ کر کے امریکا کو ایران پر حملے پر مجبور کیا جس نے خطے میں امریکی مفادات کو خطرے میں ڈال دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کوامریکا کے لئے خطرہ قرار دینے میں اسرائیلی حکام اور امریکی میڈیا کا بڑا کردار ہے۔ جو کینٹ نے ٹکر کارلسن کو بتایا کہ ایران پر حملے کا فیصلہ اسرائیلیوں نے کیا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ہاؤس کے سپیکر مائیک جانسن کے تبصروں کا حوالہ بھی دیا جنہوں نے کہا ہے کہ اسرائیل کے منصوبوں نے امریکا کو ایران پر حملہ کرنے پر مجبور کیا۔

جو کینٹ نے کہا کہ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو اور دیگر اسرائیلی حکام نے ذاتی طور پر صدر ٹرمپ کو باور کروایا کہ ایران امریکا کے لئے خطرہ ہے اوراپنے موقف کی حمایت میں اکثر ایسی معلومات پیش کیں جن کی امریکی حکام تصدیق نہیں کر سکے۔ جو کچھ اسرائیلی کہہ رہے تھے اس کی امریکی انٹیلی رپورٹس میں عکاسی نہیں ہو تی تھی۔جو کینٹ نے دعوی کیا کہ ٹرمپ کے جنگ شروع کرنے کے فیصلے کے پیچھے اسرائیلی لابی کا ہاتھ تھا ۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ایران پر حملے کی مختلف اوقات میں مختلف وجوہات بتاتے رہے ہیں اور انہوں نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ اسرائیل نے ان کو ایران پر حملہ کرنے پر مجبور کیا تھا۔ صدر نے ایران جنگ کے حوالے سے جو کینٹ کی تنقید کو بھی مسترد کر دیا اور کہا کہ وہ ہمیشہ سوچتے تھے کہ جو کینٹ سکیورٹی کے حوالے سے کمزور ہیں اور اگر ان کی انتظامیہ میں کوئی یہ نہیں مانتا ہے کہ ایران ایک خطرہ ہے تو ہمیں ایسے لوگوں کی کوئی ضرورت نہیں اور جو لوگ ایران کو خطرہ نہیں سمجھتے تھے وہ ذہانت سے محروم ہیں ۔

جو کینٹ نے بتایا کہ انہوں نے استعفا دینے کا فیصلہ اس وقت کیا جب یہ واضح ہو گیا کہ ایران پر حملے کے حوالے سے ان کے خدشات کو نظر انداز کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ جس راستے پر ہم چل رہے ہیں اس پر چلنے کوئی فائدہ نہیں اور میں ایک اچھے ضمیر کے ساتھ اس کا حصہ نہیں بن سکتا۔ نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے سربراہ کے طور پر جو کینٹ کی ذمہ داری دہشت گردی کے خطرات کا تجزیہ کرنا اور ان کا پتہ لگانا تھا۔ ان کے کام کی نگرانی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس تلسی گبارڈ کر رہی تھیں جنہوں نے حال ہی میں اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ فیصلہ کہ امریکا کو ایران سے کوئی خطرہ لاحق تھا یا نہیں امریکی صدر نے اکیلے ہی کیا ۔ واضح رہے کہ جو کینٹ نے امریکی فوج میں کمانڈو اور سی آئی اے اہلکار کے طور پر اہم فرائض سرانجام دیئے ۔ ان کی اہلیہ بھی امریکی بحریہ میں ملازم تھیں جو شام میں 2019 میں ایک خودکش حملے میں ماری گئی تھیں۔ ان کی موت کے بعد جو کینٹ نے دوبارہ شادی کی تھی۔