اقوام متحدہ۔19مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن امداد کی رسائی محدود رہنے کے باعث لاکھوں فلسطینی خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (یو این آر ڈبلیو اے)کے سربراہ فلپ لازینی نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ اب بھی …
غزہ میں بڑھتی انسانی ضروریات ،امداد تک محدود رسائی سے لاکھوں فلسطینی مشکلات کا شکار ہیں ،اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ۔19مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانی ضروریات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے لیکن امداد کی رسائی محدود رہنے کے باعث لاکھوں فلسطینی خاندان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے فلسطینی مہاجرین (یو این آر ڈبلیو اے)کے سربراہ فلپ لازینی نے ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہا کہ زیادہ تر لوگ اب بھی گنجان پناہ گاہوں اور متاثرہ مکانات میں رہ رہے ہیں اور ضروری امدادی سامان تک ان کی رسائی محدود ہے۔
فلپ لازارینی نے کہا کہ ہنگامی اشیا جیسے خیمے، بستر اور دیگر بنیادی ضروریات تیزی سے ختم ہو رہی ہیں اور بعض امدادی کارکن مقامی مارکیٹ سے کپڑے، بستر اور کچن کی بنیادی چیزیں خریدنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ نے محدود دستیاب وسائل اور بڑھتی ہوئی پابندیوں کے باوجود امدادی سرگرمیاں جاری رکھی ہیں ،گزشتہ روز400,000 لیٹر ایندھن اکٹھا کیا گیا ،اس کے علاوہ پانی، صفائی اور صحت کے شعبے میں کام کرنے والی ٹیموں نے کریم شیلوم کراسنگ سے 7 ٹرک امدادی سامان بھی حاصل کیا۔
یہ کراسنگ اب بھی واحد فعال راستہ ہے جس کے ذریعے انسانی اور تجارتی سامان غزہ داخل ہو سکتا ہے،یہ صورتحال پائیدار نہیں کیونکہ انسانی اور تجارتی شعبے دونوں کو یہی رکاوٹ درپیش ہے ۔ اقوام متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے کہا کہ اسرائیل نے حال ہی میں رفح کراسنگ کھولنے کا اعلان کیا لیکن ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا، اقوامِ متحدہ مریضوں کے دوبارہ انخلا اور غزہ واپس آنے والے لوگوں کی مدد کے لیے تیار ہے۔








