ہمسایہ ممالک کے ساتھ اعلیٰ سطحی سرحدی مذاکرات کے لیے تیارہیں ، بیلا روس

منسک ۔20مارچ (اے پی پی):بیلاروس نے اپنے مغربی ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔شنہوا کے مطابق بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزینکوف نے جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بامعنی بات چیت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے یہ بات پولینڈ کی سرحد کے قریب بریسٹ اور …

منسک ۔20مارچ (اے پی پی):بیلاروس نے اپنے مغربی ہمسایہ ممالک کے ساتھ سرحدی گزرگاہوں کی بحالی کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی ہے۔شنہوا کے مطابق بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزینکوف نے جمعرات کو کہا کہ ان کا ملک سرحدی کراسنگ پوائنٹس پر معمول کی سرگرمیوں کی بحالی کے لیے بامعنی بات چیت کا خواہاں ہے۔ انہوں نے یہ بات پولینڈ کی سرحد کے قریب بریسٹ اور کوزلووچی چیک پوسٹس کے دورے کے دوران کہی۔وزیر خارجہ نے کہا کہ بیلاروس مکمل، قانونی اور باہمی مفاد پر مبنی سرحدی آپریشنز کی بحالی کے لیے پرعزم ہے۔

انہوں نے یورپی یونین سے ملحقہ ممالک پر خود ساختہ تنہائی اختیار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ سرحدوں کی بندش نہ صرف بیلاروس بلکہ اہم ایشیائی منڈیوں سے بھی ان ممالک کو الگ کر رہی ہے۔میکسم ریزینکوف نے زور دیا کہ سرحدی گزرگاہوں کی مکمل بحالی کے لیے سیاسی عزم اور اسٹریٹجک مکالمہ ناگزیر ہے، اور مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ تکنیکی اقدامات سے آگے بڑھ کر سنجیدہ سفارتی کوششیں کریں۔واضح رہے کہ بیلاروس کی مغربی سرحدیں پولینڈ، لتھوانیا اور لٹویا سے ملتی ہیں، جہاں سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی خدشات کے باعث متعدد سرحدی گزرگاہوں پر پابندیاں برقرار ہیں۔