اقوام متحدہ ۔20مارچ (اے پی پی):فلسطین میں دو سال سے زائد عرصے سے جاری تشدد، نقل مکانی اور جانی نقصان نے بچوں اور نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بچیاں خاص طور پر بڑھتے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی عہدیدار سیما عالمی کے مطابق صورتحال ایک شیدید ذہنی صحت کے …
فلسطین میں جاری بحران کے باعث بچیوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت خطر ے میں ہے ، اقوام متحدہ

مزید خبریں
اقوام متحدہ ۔20مارچ (اے پی پی):فلسطین میں دو سال سے زائد عرصے سے جاری تشدد، نقل مکانی اور جانی نقصان نے بچوں اور نوجوانوں کو شدید ذہنی دباؤ میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ بچیاں خاص طور پر بڑھتے خطرات کا سامنا کر رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ (یو این ایف پی اے) کی عہدیدار سیما عالمی کے مطابق صورتحال ایک شیدید ذہنی صحت کے بحران کی شکل اختیار کر چکی ہے، جہاں خاص طور پر کم عمری کی شادیوں میں دوبارہ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ غزہ میں دس لاکھ سے زائد بچوں کو ذہنی و نفسیاتی مدد کی اشد ضرورت ہے، جبکہ 96 فیصد بچے مسلسل خوف اور صدمے کے باعث موت کے قریب ہونے کا احساس رکھتے ہیں۔اعداد و شمار کے مطابق نوجوانوں میں 61 فیصد پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی )، 38 فیصد ڈپریشن اور 41 فیصد بے چینی کا شکار ہیں، جبکہ ہر پانچ میں سے ایک بالغ تقریباً روزانہ خودکشی کے خیالات میں مبتلا ہے۔
اس بحران میں بچیاں سب سے زیادہ متاثر ہو رہی ہیں۔ غزہ میں کم عمری کی شادیوں کی شرح، جو 2009 میں 25.5 فیصد سے کم ہو کر 2022 میں 11 فیصد رہ گئی تھی، اب دوبارہ تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ایک حالیہ جائزے کے مطابق 71 فیصد افراد نے 18 سال سے کم عمر لڑکیوں کی شادی کے لیے بڑھتے دباؤ کی نشاندہی کی ہے۔سیما عالمی کے مطابق بہت سے خاندان غربت، بے گھری اور عدم تحفظ کے باعث شادی کو بقا کی حکمت عملی سمجھتے ہیں، تاہم اس کے نتائج نہایت سنگین ہیں۔ 2025 میں غزہ میں رجسٹر ہونے والے تقریباً 10 فیصد حمل کم عمر لڑکیوں میں رپورٹ ہوئے۔دوسری جانب صحت کی سہولیات شدید متاثر ہو چکی ہیں، جہاں صرف 15 فیصد مراکز ہنگامی زچگی اور نوزائیدہ بچوں کی خدمات فراہم کر رہے ہیں، جس سے نوجوان ماؤں اور بچوں کے لیے خطرات بڑھ گئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کم عمری میں شادی کرنے والی 63 فیصد لڑکیاں جسمانی، نفسیاتی یا جنسی تشدد کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ طلاق کی شرح میں بھی اضافہ اور شدید ذہنی دباؤ عام ہو چکا ہے۔ بعض انتہائی واقعات میں 100 سے زائد خودکشی یا اس کی کوششوں کے کیسز بھی سامنے آئے ہیں۔اگرچہ بحران کا مرکز غزہ ہے، تاہم مغربی کنارہ میں بھی حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں، جہاں تشدد، فوجی کارروائیوں اور نقل مکانی نے روزمرہ زندگی کو متاثر کیا ہے اور تعلیمی سرگرمیاں بھی معطل ہو رہی ہیں۔ان حالات میں اقوام متحدہ پاپولیشن فنڈ نے امدادی سرگرمیاں بڑھاتے ہوئے خواتین اور بچیوں کے لیے 35 سے زائد محفوظ مراکز قائم کیے ہیں، جبکہ ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد امدادی کٹس تقسیم کی جا چکی ہیں۔حکام کے مطابق اگرچہ امدادی اقدامات جاری ہیں، تاہم بے دخلی، محدود وسائل اور مشکل حالات کے باعث صورتحال بدستور چیلنج بنی ہوئی ہے، اور ماہرین مربوط حکمت عملی کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں جس میں خوراک، صحت اور تعلیم کے ساتھ ذہنی صحت کو بھی شامل کیا جائے۔








