ایران کا آئی اے ای اے سے بوشہر جوہری بجلی گھر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی مطالبہ

ویانا۔20مارچ (اے پی پی):ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بوشہر جوہری بجلی گھر پر مبینہ اسرائیلی حملے کی مذمت کرے، جس کی صورتحال کو ایرانی حکام نے انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔شنہوا کے مطابق ویانا میں ایران کے سفیر رضا نجفی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے آئی اے …

ویانا۔20مارچ (اے پی پی):ایران نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ بوشہر جوہری بجلی گھر پر مبینہ اسرائیلی حملے کی مذمت کرے، جس کی صورتحال کو ایرانی حکام نے انتہائی سنگین قرار دیا ہے۔شنہوا کے مطابق ویانا میں ایران کے سفیر رضا نجفی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے جوہری توانائی ادارے کے سربراہ محمد اسلامی نے آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کو خط لکھ کر اس حملے کی مذمت کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم اس خط سمیت پہلے بھیجے گئے خطوط کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔رضا نجفی کے مطابق یہ حملہ منگل کی شام بوشہر جوہری پلانٹ کے ری ایکٹر سے تقریباً 200 میٹر کے فاصلے پر کیا گیا، جسے انہوں نے "دانستہ” کارروائی قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران یہ ایرانی جوہری تنصیبات کے قریب تیسرا حملہ ہے، اس سے قبل نطانز اور اصفہان کو بھی نشانہ بنایا جا چکا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئی اے ای اے کی جانب سے اب تک صرف تحمل کی اپیل کی گئی ہے، جبکہ ایران ان حملوں کی واضح مذمت کا مطالبہ کرتا ہے۔دوسری جانب آئی اے ای اے نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اسے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کے احاطے میں حملے کی اطلاع ملی ہے اور کسی بھی جوہری حادثے کے خطرے سے بچنے کے لیے زیادہ سے زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ادھر روس نے بھیاس میزائل حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ جوہری بجلی گھر کے ایک فعال یونٹ کے انتہائی قریب ہوا، جس سے وہاں موجود روسی عملے کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا۔