آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب کر سکتی ہے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

برسلز ۔20مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں طاقت کے استعمال کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور فوری طور پر سفارتی حل کی جانب پیش رفت پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق برسلز میں یورپی کونسل کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کے خلاف …

برسلز ۔20مارچ (اے پی پی):اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریش نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے تناظر میں طاقت کے استعمال کے بجائے قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانے اور فوری طور پر سفارتی حل کی جانب پیش رفت پر زور دیا ہے۔شنہوا کے مطابق برسلز میں یورپی کونسل کے دفتر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو ایران کے خلاف اپنی بمباری روک دینی چاہیے، بصورت دیگر صورتحال مکمل طور پر قابو سے باہر ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کو شدید نقصان پہنچے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو بھی خلیجی ہمسایہ ممالک پر حملے بند کرنے چاہئیں کیونکہ وہ اس تنازع کا براہِ راست حصہ نہیں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل ان حملوں کی مذمت کر چکی ہے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کی ہدایت بھی دے چکی ہے۔انتونیو گوتریش نے خبردار کیا کہ آبنائے ہرمز کی طویل بندش عالمی سطح پر شدید اثرات مرتب کر سکتی ہے، خاص طور پر ان ممالک پر جو اس جنگ سے براہِ راست وابستہ نہیں مگر توانائی کی قیمتوں اور سپلائی میں رکاوٹوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں توانائی کے انفراسٹرکچر اور گیس فیلڈز پر حملوں کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، جس سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ طاقت کے قانون کے بجائے قانون کو غالب کیا جائے اور جنگ کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دی جائے۔