برسلز ۔20مارچ (اے پی پی):ہنگری نے یورپی یونین کے 90 ارب یورو کے فوجی قرضےکو یوکرین کے لیے فراہم کرنے کو قانونی بنیاد پر روک دیا ہے۔ تاس کے مطابق ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے صحافیوں سے گفتگو کہا کہ اس فیصلے کے عمل میں ابھی تک حتمی منظوری نہیں ہوئی لیکن قانونی نقطہ نظر سے صورتحال واضح ہے کہ ہمارے پاس یہ حق موجود ہے کہ ہم …
ہنگری نے یوکرین کے لیے 90 ارب یورو کے قرضے کی منظوری قانونی طور پر روک دی

مزید خبریں
برسلز ۔20مارچ (اے پی پی):ہنگری نے یورپی یونین کے 90 ارب یورو کے فوجی قرضےکو یوکرین کے لیے فراہم کرنے کو قانونی بنیاد پر روک دیا ہے۔ تاس کے مطابق ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے صحافیوں سے گفتگو کہا کہ اس فیصلے کے عمل میں ابھی تک حتمی منظوری نہیں ہوئی لیکن قانونی نقطہ نظر سے صورتحال واضح ہے کہ ہمارے پاس یہ حق موجود ہے کہ ہم قرضے کی منظوری کو اس وقت تک روکیں جب تک ہنگری کو یوکرین کے ذریعے روسی تیل کی ترسیل دوبارہ شروع نہ ہو۔
انہوں ے یاد دلایا کہ جب یورپی یونین کونسل نے دسمبر 2025 میں یہ فنڈز یوکرین کے لیے مختص کرنے کا فیصلہ کیا تو تین ممالک ہنگری، سلوواکیا اور جمہوریہ چیک نے اس اقدام میں حصہ لینے سے انکار کیا، مگر دوسرے ممالک کو ایسا کرنے سے نہیں روکاتاہم صورتحال اس وقت بدل چکی ہے کیونکہ یوکرینیوں نے ہنگری کو تیل کی فراہمی بند کر دی ہے۔انہوں نے کہاکہ یورپی کمیشن چاہتا ہے کہ یہ قرضہ یورپی یونین کے مشترکہ قرضے کے طور پر فراہم کیا جائے، جس پر سود یورپی یونین کے عمومی بجٹ سے ادا کیا جائے، تاہم اس کے لیے الگ دستاویز کی متفقہ منظوری ضروری ہے۔
ہنگری اور سلوواکیا اس کی مخالفت کر رہے ہیں اور مطالبہ کر رہے ہیں کہ یوکرین تیل کی ترسیل بحال کرے۔انہو ں نے مزیدکہاکہ اگر دسمبر میں یوکرینیوں نے تیل کا بائیکاٹ عائد کیا ہوتا تو ہم کبھی 90 ارب یورو قرضہ نہیں دیتے۔ مگر فیصلے کی منظوری کے بعد ہم پر تیل کا بائیکاٹ عائد کیا گیا، اور میں یہ دکھاوا نہیں کر سکتا کہ کچھ نہیں ہوا۔وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ دوسرےیورپی یونین رہنماؤں کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا مشکل تھا مگر انہوں نےسربراہ اجلاس کے دوران کشیدہ ماحول کے باوجود ہمت نہیں ہاری ۔








