لاہور۔20مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تجارت کے فروغ اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرے تو وہ بحران زدہ علاقوں کو تجارتی راہداریوں میں تبدیل کر سکتا ہے، جس سے خوشحالی و استحکام کو فروغ ملے گا۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تجارت نہ صرف معاشی ترقی کا ایک …
تجارت پر توجہ مرکوز کرکے پاکستان تنازعات میں گھرے خطے کو تجارتی راہداری میں تبدیل کر سکتا ہے ،افتخار علی ملک
لاہور۔20مارچ (اے پی پی):سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر افتخار علی ملک نے کہا ہے کہ اگر پاکستان تجارت کے فروغ اور معاشی ترقی پر توجہ مرکوز کرے تو وہ بحران زدہ علاقوں کو تجارتی راہداریوں میں تبدیل کر سکتا ہے، جس سے خوشحالی و استحکام کو فروغ ملے گا۔ جمعہ کو اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ تجارت نہ صرف معاشی ترقی کا ایک موثر ذریعہ بن سکتی ہے بلکہ علاقائی اثر و رسوخ بڑھانے کا بھی اہم ہتھیار ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ تجارتی مفادات کو سکیورٹی اہداف کے ساتھ ہم آہنگ کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اصل چیلنج یہ ہے کہ سکیورٹی اور تجارت کو ایک دوسرے کے لیے معاون بنایا جائے۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ موجودہ علاقائی تنازعات کے ماحول میں پاکستان کے پاس یہ نادر موقع موجود ہے کہ وہ خود کو ایک مستحکم تجارتی راہداری کے طور پر تسلیم کرائے۔ اگر پاکستان وسطی ایشیائی ریاستوں اور خشکی سے گھرے ہمسایہ ممالک کے لیے ٹرانزٹ تجارت اور برآمدات میں سہولت فراہم کرے تو وہ علاقائی تجارت کے لیے ناگزیر بن سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اسٹریٹجک کردار کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، بندرگاہوں اور صنعتی مراکز کو عالمی منڈیوں سے جوڑنے کے لیے انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور علاقائی و عالمی تجارتی اداروں کے ساتھ فعال تعاون ناگزیر ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ملک میں فی کس آمدن میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کو جغرافیائی سیاست میں بھی برتری حاصل ہوگی، جس سے علاقائی انحصار کو معاشی اثر و رسوخ میں تبدیل کیا جا سکے گا۔
افتخار علی ملک کا کہنا تھا کہ آسیان اور افریقی ممالک جیسی ابھرتی ہوئی منڈیاں پاکستان کے لیے تجارت میں تنوع کے نئے مواقع فراہم کرتی ہیں۔ علاقائی تجارتی بلاکس کے ساتھ اسٹریٹجک روابط پاکستان کو ایشیا اور افریقہ کے بدلتے ہوئے تجارتی نیٹ ورکس میں ایک اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع اسے جنوبی و وسطی ایشیا تک رسائی، مشرق وسطی کے گیٹ وے اور افریقی منڈیوں کے قریب ہونے کا منفرد فائدہ دیتا ہے۔
ٹرانزٹ ٹریڈ، صنعتی کلسٹرز اور لاجسٹکس حب ملک کو ایک مضبوط علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ اس صلاحیت کو حقیقت میں بدلنے کے لیے صرف جغرافیہ کافی نہیں بلکہ واضح حکمت عملی، مضبوط سپلائی چینز اور پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی حالات میں موثر انداز میں کام کرنے کی صلاحیت بھی ضروری ہے۔









