لاہور۔25مارچ (اے پی پی):سابق کمشنرانڈس واٹر سید جماعت علی شاہ نے نشاندھی کی ہے کہ بھارت بتدریج پانی کے بہاو پر کنٹرول بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جو طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، ڈیمز کی مجموعی گنجائش مستقبل میں پانی کے دباو کا باعث بن سکتی ہے۔ بدھ کو بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی اور اسکے …
بھارت کی پانی کے بہاو پر کنٹرول بڑھانے کی حکمت عملی پاکستان کے لئے خطرہ بن سکتی ہے،سید جماعت علی شاہ

مزید خبریں
لاہور۔25مارچ (اے پی پی):سابق کمشنرانڈس واٹر سید جماعت علی شاہ نے نشاندھی کی ہے کہ بھارت بتدریج پانی کے بہاو پر کنٹرول بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے، جو طویل المدتی بنیادوں پر پاکستان کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے، ڈیمز کی مجموعی گنجائش مستقبل میں پانی کے دباو کا باعث بن سکتی ہے۔ بدھ کو بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدہ کی معطلی اور اسکے اثرات کے حوالے سے اے پی پی سےخصوصی بات چیت کرتے ہوئے سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ کی معطلی دونوں ممالک کے لئے ایک” فلش پوائنٹ” ہے کیونکہ دونوں ممالک ایٹمی طاقت کے حامل ہیں ،جس سے دونوں کے درمیان جنگ چھڑنے کا امکان پیدا ہوسکتا ہے کیونکہ پانی کے بغیر پاکستان زندہ نہیں رہ سکتا ،بھارت پاکستان کو بے جا طور پر جنگ پر مجبور کر دے گا۔
انہوں نے کہا یہ معاہدہ غیر معینہ مدت کے لئے ہے اور اسکی مرکزی بنیادی شق یہ ہے کہ اس معاہدے کو توڑا نہیں جاسکتا۔سابق کمشنر انڈس واٹر سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ میں پہلے بھی تجویز دے چکا ہوں کہ سندھ طاس معاہدہ کی بھارتی خلاف ورزی پر پاکستان کو سرکاری سطح پر ایک تھنک ٹینک یا ورکنگ گروپ تشکیل دینا چاہیے جس میں سفارتی ، آبی ، قانونی ماہرین اور پروجیکٹ انجینئرز کے ساتھ دفتر خارجہ کے متعلقہ سفارت کار بھی شامل کئے جائیں۔ ماہرین پر مشتمل یہ تھنک ٹینک بھارت کی طرف سے پانی روکنے اور دریائوں کا رخ موڑنے کی سرگرمیوں کا جائزہ لے اور ممکنہ آمدہ پیچیدہ صورتحال کے تدارک کےلئے حکومت کو مضبوط اسٹریٹجک پالیسی بناکر دے ۔
سابق کمشنر انڈس واٹر سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ بھارت پاکستان کا پانی کا بہاو روکنے کے لئے مزید ڈیمز بنائے گا، اس اقدام سے مستقبل قریب میں پاکستان کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔
سید جماعت علی شاہ نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں امریکا سمیت دوست ممالک سے فوری ماہرین کے ذریعے رابطے کئے جائیں اور بھارت پر بین الاقوامی سطح پر دوست ممالک کے ذریعے سفارتی دباو ڈالا جائے اور باور کرایا جائے کہ وہ اس معاہدے کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اس معاہدے پر عملدرآمد کر رہا ہے جبکہ بھارت نے خلاف ورزیاں کی ہیں،سندھ طاس معاہدہ غیر معینہ مدت کے لئے ہے اور اس میں یکطرفہ معطلی کی کوشش نہیں ہو سکتی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ورلڈ بینک سندھ طاس معاہدے کا ضامن نہیں بلکہ یہ ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کے حل کے لئے کام کرتا ہے۔ یہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے تنازعہ کے معاہدے میں بین الاقوامی ثالثی عدالت کے قیام میں مدد کر سکتا ہے۔








