اسلام آباد ۔ 09 اکتوبر (اے پی پی) صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کے عوام وسائل کی کمی کے سبب غیر معیاری غذاءیا غذائی قلت اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل کا شکار ہیں جس کا علاج معالجہ کی تشخیص اور طریقہ کار پرگہرا اثر مرتب ہوتا ہے لیکن عالم گیریت کے رجحانات کے علاوہ بعض دیگر وجوہ سے امداد دینے والے ممالک …
صدرمملکت ممنون حسین کا ڈبلیو ایچ او کی64 ویں علاقائی کمیٹی کے اجلاس سے افتتاحی خطاب

مزید خبریں
اسلام آباد ۔ 09 اکتوبر (اے پی پی) صدر ممنون حسین نے کہا ہے کہ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کے عوام وسائل کی کمی کے سبب غیر معیاری غذاءیا غذائی قلت اور ماحولیاتی آلودگی جیسے مسائل کا شکار ہیں جس کا علاج معالجہ کی تشخیص اور طریقہ کار پرگہرا اثر مرتب ہوتا ہے لیکن عالم گیریت کے رجحانات کے علاوہ بعض دیگر وجوہ سے امداد دینے والے ممالک اور اداروں کی نظرسے یہ عوامل نظر انداز ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے تیسری دنیا میں طب وصحت سے متعلق کاوشیں متاثر ہو جاتی ہیں یا ان کے وہ نتائج نہیں نکلتے جن کی توقع کی جاتی ہے۔ انہوں نے یہ بات پیر کو عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی64 ویں علاقائی کمیٹی کے اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر وزیر قومی صحت خدمات سائرہ افضل تارڑ اور ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے بھی خطاب کیا۔ صدر ممنون حسین نے کہا کہ جنگوں اور خونریزی کی وجہ سے پولیو جیسا موذی مرض خطہ میں ایک بڑے خطرے کے طور پر ابھرا جس سے ہمسایہ ممالک کے ساتھ پاکستان بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا مگر متعلقہ اداروں کی انتھک محنت اور اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پاکستان کی صورتحال بہت بہتر ہے اور یقیناًجلد اس موذی مرض پر مکمل طور پر قابو پالیا جائے گا۔








