لاہور ہائیکورٹ نے لائسنس معطلی کے باوجود بطور وکیل پیش ہونے پر تحریری حکم جاری کر دیا

لاہور۔2اپریل (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے لائسنس معطلی کے باوجود لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بابر مرتضی خان کے بطور وکیل عدالت میں پیش ہونے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریری حکم جاری کر دیا اور معاملہ چیف جسٹس کے روبرو رکھنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس شجاعت علی خان نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ کاز لسٹ کے مطابق بابر مرتضی خان …

لاہور۔2اپریل (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے لائسنس معطلی کے باوجود لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر بابر مرتضی خان کے بطور وکیل عدالت میں پیش ہونے کے معاملے پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے تحریری حکم جاری کر دیا اور معاملہ چیف جسٹس کے روبرو رکھنے کی ہدایت کر دی۔جسٹس شجاعت علی خان نے اپنے تحریری حکم میں قرار دیا کہ کاز لسٹ کے مطابق بابر مرتضی خان کا وکالت کا لائسنس معطل ہے،اس کے باوجود ان کا عدالت میں بطور وکیل پیش ہونا حیران کن ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ لائسنس معطلی کے دوران کسی وکیل کا عدالت میں پیش ہونا قانون اور ضابطے کے منافی ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے بابر مرتضی خان کی موجودگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں کمرہ عدالت سے باہر جانے کا حکم بھی دیا۔عدالت نے ریمارکس دیئے کہ جب لائسنس معطل ہے تو بطور وکیل پیش ہونا کیسے ممکن ہے،تحریری فیصلے میں مزید کہا گیا کہ اس معاملے کو چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ کے سامنے رکھا جائے تاکہ وہ اس حوالے سے مناسب احکامات جاری کریں۔یاد رہے کہ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے انتخابی نتائج متنازعہ صورت اختیار کرنے اور دو بڑی وکلا تنظیموں کے درمیان کشیدگی کے دوران بابر مرتضی کے مد مقابل صدارتی امیدوار راجہ عامر نے پنجاب بار کونسل میں بابر مرتضی کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی جس کی روشنی میں پنجاب کونسل نے بابر مرتضی کا لائسنس معطل کردیا تھا ۔