اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان نے خواتین کے لئے سہولیاتی مراکز (ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز) کے قیام کے لئے قومی ڈیزائن مقابلے سے متعلق مشاورتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنفی حساس انصاف (Gender-Responsive Justice) عدالتی اصلاحات کا اہم ستون ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات کو ایک …
خواتین سہولیاتی مراکز کے لئے قومی ڈیزائن مقابلہ، چیف جسٹس کی مشاورت تیز کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔2اپریل (اے پی پی):چیف جسٹس آف پاکستان نے خواتین کے لئے سہولیاتی مراکز (ویمن فیسلی ٹیشن سینٹرز) کے قیام کے لئے قومی ڈیزائن مقابلے سے متعلق مشاورتی عمل کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ صنفی حساس انصاف (Gender-Responsive Justice) عدالتی اصلاحات کا اہم ستون ہے۔سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کے جاری اعلامیہ کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں جمعرات کو ایک اعلیٰ سطحی مشاورتی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت چیف جسٹس آف پاکستان نے بطور چیئرمین لاء اینڈ جسٹس کمیشن آف پاکستان کی۔ اجلاس کا مقصد جینڈر رسپانسیو جسٹس انیشی ایٹو (GRJI) 2026-27 کو عملی شکل دینا تھا۔اجلاس میں سپریم کورٹ اور لاء اینڈ جسٹس کمیشن کے اعلیٰ حکام، نیشنل کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن، یو این ویمن پاکستان، انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان، صوبائی محکمہ ویمن ڈویلپمنٹ کے نمائندگان، صنفی ماہرین اور آرکیٹیکچر کمیونٹی کے اراکین نے شرکت کی جبکہ وفاقی آئینی عدالت اور تمام ہائی کورٹس کے رجسٹرارز نے ورچوئلی اجلاس میں حصہ لیا۔ چیف جسٹس نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل جوڈیشل (پالیسی میکنگ) کمیٹی نے مالی سال 2026-27 کے لئے صنفی حساس انصاف کو ترجیحی اصلاحاتی شعبہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس اقدام کے تحت ملک بھر کے عدالتی کمپلیکسز میں ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز قائم کئے جائیں گے تاکہ خواتین سائلین کو محفوظ، منظم اور آسان رسائی کے حامل معاونتی خدمات فراہم کی جا سکیں۔ان مجوزہ مراکز میں قانونی رہنمائی، عدالت سے منسلک ثالثی، خاندانی ملاقاتوں کے لئے نگرانی شدہ انتظامات اور صنفی بنیاد پر تشدد کے متاثرین کے لئے معاون خدمات ایک ہی جگہ پر فراہم کی جائیں گی۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ مراکز کے قیام سے متعلق تصوراتی خاکہ اور بزنس ریکوائرمنٹ ڈاکومنٹ پہلے ہی متعلقہ سٹیک ہولڈرز کے ساتھ شیئر کیا جا چکا ہے جس میں ان مراکز کے عملی، تعمیراتی اور انتظامی خدوخال شامل ہیں۔ اجلاس میں قومی ڈیزائن مقابلے کے فریم ورک کو حتمی شکل دینے پر غور کیا گیا تاکہ ملک گیر سطح پر ایک معیاری اور قابلِ اطلاق ماڈل تیار کیا جا سکے۔شرکاء نے اس امر پر اتفاق کیا کہ انصاف کی فراہمی کو محض عدالتی فیصلوں تک محدود رکھنے کی بجائے عوامی ضروریات کے مطابق آسان رسائی، شمولیت اور ادارہ جاتی جوابدہی پر مبنی نظام کی طرف منتقل کیا جائے۔بحث کے دوران اس بات پر زور دیا گیا کہ مراکز کے ڈیزائن میں رازداری، سکیورٹی، رسائی، ثقافتی حساسیت اور پائیداری کو یقینی بنایا جائے جبکہ ثالثی اور کونسلنگ کے کمروں میں صوتی انتظامات کو بھی مدنظر رکھا جائے تاکہ رازداری اور پرسکون ماحول برقرار رہے۔
اجلاس میں یہ بھی تجویز دی گئی کہ ان مراکز میں مختلف خدمات کو ایک ہی چھت تلے فراہم کیا جائے تاکہ خواتین سائلین کو متعدد سہولیات تک بیک وقت رسائی حاصل ہو سکے۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے رجسٹرارز کو ہدایت کی گئی کہ وہ مؤثر عملدرآمد کے لئے درکار انفراسٹرکچر کا جائزہ لے کر رپورٹ تیار کریں۔شرکاء کی آراء شامل کرنے کے بعد انسٹی ٹیوٹ آف آرکیٹیکٹس پاکستان قومی ڈیزائن مقابلے کا باضابطہ آغاز کرے گا۔اجلاس کے اختتام پر چیف جسٹس نے بین الادارہ جاتی ہم آہنگی، شفافیت اور میرٹ پر مبنی جانچ کے عمل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ منتخب ڈیزائن ویمن فیسلیٹیشن سینٹرز کے لئے ایک ماڈل کے طور پر استعمال ہوگا جو عدلیہ کے صنفی حساس اور جامع انصاف کے عزم کو مزید مضبوط کرے گا۔








