تعلیم اور کرکٹ کے درمیان توازن قائم رکھنابڑا چیلنج تھا،روزینہ اکرم

سترہ سالہ روزینہ اکرم پاکستان ویمنز کرکٹ میں تیزی سے اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔ کم عمری کے باوجود وہ اپنی محنت، صلاحیت اور بہتر ہوتی ہوئی اسکلز کے ذریعے ڈومیسٹک اور پاکستان انڈر19 سطح پر متاثر کن کارکردگی دکھا رہی ہیں۔

لاہور۔4اپریل (اے پی پی):سترہ سالہ روزینہ اکرم پاکستان ویمنز کرکٹ میں تیزی سے اپنی پہچان بنا رہی ہیں۔ کم عمری کے باوجود وہ اپنی محنت، صلاحیت اور بہتر ہوتی ہوئی اسکلز کے ذریعے ڈومیسٹک اور پاکستان انڈر19 سطح پر متاثر کن کارکردگی دکھا رہی ہیں۔ روزینہ اس وقت جاری نیشنل ویمنز ٹی20 ٹورنامنٹ2025-26 میں انوِنسبلز کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ روزینہ نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ان کی کامیابی میں خاندان کا کردار اہم رہا۔ تعلیم اور کرکٹ کے درمیان توازن قائم رکھنا ان کے لیے ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایک موقع پر انہوں نے کرکٹ پر مکمل توجہ دینے کے لیے تعلیم سے وقتی وقفہ بھی لیا۔ ان کی صلاحیت کو جلد ہی کوچ نے پہچان لیا اور انہیں آف اسپن بائولنگ کی طرف راغب کیا، جس کے بعد انہوں نے مسلسل محنت، ٹرائلز اور پریکٹس کے ذریعے اپنی مہارت کو نکھارا۔روزینہ کا روزمرہ معمول نہایت سخت تھا، جہاں وہ صبح سے شام تک اکیڈمی میں پریکٹس کرتیں۔ ان کی یہی محنت ان کی کارکردگی میں واضح نظر آتی ہے۔

انہوں نے نیشنل ویمنز انڈر19 ٹورنامنٹ2024-25 میں اسٹرائیکرز کی نمائندگی کرتے ہوئے9 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ2025-26 کے انڈر19 ٹی20 ٹورنامنٹ میں اسٹارز کے لیے 7میچز میں مزید9 وکٹیں لے کر بائولنگ چارٹ میں چوتھی پوزیشن حاصل کی۔ان کی مستقل کارکردگی کے باعث انہیں دسمبر2024 میں اے سی سی ویمنز انڈر19 ایشیا کپ کے لیے پاکستان ٹیم میں شامل کیا گیا، جو ان کے کیریئر کا ایک اہم سنگ میل تھا۔ انہوں نے اس تجربے کو سیکھنے کا بہترین موقع قرار دیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنی بائولنگ میں جدت لانے پر توجہ دی، جس میں کیروم بال، آرم بال اور ڈرفٹ جیسے ہتھیار شامل کیے۔

2025 میں بنگلہ دیش کے دورے پر انہوں نے8 وکٹیں حاصل کیں، جو کسی بھی پاکستانی بالر کی جانب سے سب سے زیادہ تھیں۔روزینہ پاور پلے میں بائولنگ کو ایک چیلنج سمجھتی ہیں لیکن اسے انجوائے بھی کرتی ہیں، اور بطور اٹیکنگ بائولر دبائو ڈالنے کو ترجیح دیتی ہیں۔وہ پاکستان کی معروف کھلاڑیوں ندا ڈار اور ثنا میر سے متاثر ہیں۔ سینئر کھلاڑیوں کے ساتھ ڈریسنگ روم شیئر کرنے سے بھی انہیں فٹنس، ڈائٹ اور کھیل میں بہتری کے حوالے سے رہنمائی مل رہی ہے۔اپنے مستقبل کے حوالے سے روزینہ کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد پاکستان کی نمائندگی کرنا اور بڑے میچز میں ٹیم کے لیے بہترین کارکردگی دکھانا ہے۔