وفاقی آئینی عدالت نے قبل از وفات بیٹی کے ورثاء کے حقوق بحال کر دیئے

وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم اور اصولی پیش رفت میں قرار دیا ہے کہ قبل از وفات بیٹی کے ورثاء بھی اپنے نانا اور نانی کی جائیداد میں برابر کے حق دار ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں مرحومہ سردار بیگم کے قانونی ورثاء کو مقدمے میں باقاعدہ فریق بنا دیا گیا ہے۔

اسلام آباد۔14اپریل (اے پی پی):وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے وراثتی حقوق سے متعلق ایک اہم اور اصولی پیش رفت میں قرار دیا ہے کہ قبل از وفات بیٹی کے ورثاء بھی اپنے نانا اور نانی کی جائیداد میں برابر کے حق دار ہوتے ہیں اور اس سلسلے میں مرحومہ سردار بیگم کے قانونی ورثاء کو مقدمے میں باقاعدہ فریق بنا دیا گیا ہے۔چیف جسٹس جسٹس امین الدین خان کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی، بنچ میں جسٹس علی باقر نجفی بھی شامل تھے۔دوران سماعت سپریم کورٹ کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر نے موقف اختیار کیا کہ وراثتی حق مورث کی وفات کے ساتھ ہی پیدا ہو جاتا ہے اور محض ریونیو ریکارڈ کی غلطی یا تکنیکی نکات کی بنیاد پر اسے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے اس موقف سے اتفاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ سردار بیگم کے ورثاء کو دہائیوں سے محروم رکھا گیا جو ایک سنگین ناانصافی تھی۔عدالت کے روبرو یہ بھی حلفاً بیان کیا گیا کہ سردار بیگم چوہدری عبداللہ خان اور فاطمہ بی بی کی بیٹی تھیں جس پر موجود تمام فریقین کے درمیان تنازع ختم ہو گیا۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ وراثتی حقوق وقت گزرنے سے ختم نہیں ہوتے اور قانونی ورثاء کو ان کا حق ہر صورت ملنا چاہیے۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ 1968ء میں چوہدری عبداللہ خان کی وفات کے بعد وراثتی انتقال میں سردار بیگم کو شامل نہ کرنا ایک واضح غلطی تھی جس کے باعث ان کے ورثاء تقریباً 58 برس تک اپنے حق سے محروم رہے۔

بعد ازاں 1987ء میں فاطمہ بی بی کی وفات کے وقت بھی یہی غلطی برقرار رہی۔عدالت نے قرار دیا کہ کنسولیڈیشن کارروائی میں بھی اس اہم پہلو کو نظر انداز کیا گیا، لہٰذا اب جائیداد کو ازسرنو تین بیٹوں اور چار بیٹیوں میں تقسیم کیا جانا چاہیے۔عدالت نے Impleadment کی درخواست منظور کرتے ہوئے سردار بیگم کے ورثاء اور مرحوم جاوید اقبال کے متبادل ورثاء کو بھی کیس میں شامل کر لیاجبکہ درخواست گزار کے وکیل حافظ احسان احمد کھوکھر کی استدعا کو تسلیم کر لیا گیا۔مزید برآں عدالت نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو ہدایت کی کہ آئندہ سماعت پر متعلقہ کنسولیڈیشن افسر، پٹواری اور تحصیلدار کو پیش کیا جائے تاکہ جائیداد کی نئی تقسیم کے عمل میں پیش رفت ہو سکے۔عدالت نے اس کیس کو دیرینہ ناانصافی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیتے ہوئے مزید سماعت 13 مئی 2026ء تک ملتوی کر دی۔