سینیٹر محمد طلحہ محمود نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی اسمبلی سے اہم عالمی اقتصادی تبدیلی کے وقت میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے منصفانہ عالمی نظم کا مطالبہ کیا۔سینیٹر ز کے اعلیٰ سطحی وفد میں سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور ایم این اے شرمیلا فاروقی بھی شامل ہیں۔
پاکستان کا بین الپارلیمانی یونین اسمبلی میں منصفانہ عالمی نظم کا مطالبہ

مزید خبریں
اسلام آباد۔18اپریل (اے پی پی):سینیٹر محمد طلحہ محمود نے بین الپارلیمانی یونین (آئی پی یو) کی اسمبلی سے اہم عالمی اقتصادی تبدیلی کے وقت میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے منصفانہ عالمی نظم کا مطالبہ کیا۔سینیٹر ز کے اعلیٰ سطحی وفد میں سینیٹر امیر ولی الدین چشتی، سینیٹر اعظم نذیر تارڑ اور ایم این اے شرمیلا فاروقی بھی شامل ہیں۔قومی یکجہتی اور وزیر اعظم کے کفایت شعاری کے وژن کی پاسداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے وفد کے تمام ارکان سرکاری دورہ کے اپنے اخراجات خود برداشت کر رہے ہیں تاکہ اس امر کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس مشکل وقت میں قومی خزانے پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔
آئی پی یو گورننگ کونسل اور سٹینڈنگ کمیٹی برائے پائیدار ترقی کے اجلاس کے دوران سینیٹر طلحہ محمود نے پاکستان کا موقف پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ حالیہ یک طرفہ ٹیرف اقدامات کی وجہ سے عالمی معیشت ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔انہوں نے عالمی بینک کے عالمی اقتصادی امکانات (جون 2025) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی رکاوٹوں سے عالمی ترقی کا 2.3 فیصد تک سست ہونے کا امکان ہے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک اس تبدیلی کے فرنٹ لائنز پر ہیں، انہیں بے روزگاری، سرمایہ کاری کی رکاوٹوں اور غربت میں کمی میں مشکلات کے تین گنا چیلنج کا سامنا ہے اور اس طرح کے عوامل ٹیکسٹائل اور زرعی شعبوں میں لاکھوں لوگوں کے روزگار کو براہ راست متاثر کرتے ہیں۔ان عالمی پریشانیوں کے باوجود، انہوں نے پاکستان کی معاشی لچک کو اجاگر کرتے ہوئے گزشتہ 14 سال میں پاکستان کے پہلے کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس کی نشاندہی بھی کی جو 2025 میں ریکارڈ کیا گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس سنگ میل کو آئی ٹی خدمات میں اضافہ، مضبوط برآمدی کارکردگی اور ترسیلات زر میں اضافہ سے مدد ملی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر سینیٹر طلحہ محمود نے ساتھی پارلیمنٹرینز پر زور دیا کہ پولرائزیشن کی بجائے شراکت داری پر مبنی منصفانہ اور پائیدار عالمی نظم کو فروغ دیں۔انہوں نے کثیرالجہتی اور پائیدار ترقی کے اہداف کے لیے تجدید عہد پر زور دیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ عالمگیریت کے فوائد اقوام کے درمیان مساوی طور پر تقسیم ہو سکیں۔ دورہ کے دوران وفد نے استنبول بار ایسوسی ایشن کے صدر سے بھی ملاقات کی اور ترکیہ کے نظام انصاف کے بارے میں تفصیلی بریفنگ حاصل کی۔ وفد کے شرکا نے پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی اور خوشگوار تعلقات کو سراہتے ہوئے امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کی بار ایسوسی ایشنز کے درمیان بڑھتے ہوئے تعاون سے دوطرفہ تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور نظام انصاف کی ترقی میں مدد ملے گی۔








