ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے یورپی دفتر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے ممالک میں صحت کے نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا استعمال تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں تمام 27 رکن ممالک بہتر مریض دیکھ بھال کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
یورپ میں صحت کے شعبے میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں تیزی آرہی ہے ، ڈبلیو ایچ او رپورٹ

مزید خبریں
اوسلو۔21اپریل (اے پی پی):ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے یورپی دفتر کی ایک نئی رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے ممالک میں صحت کے نظام میں مصنوعی ذہانت (اے آئی ) کا استعمال تیزی سے فروغ پا رہا ہے، جہاں تمام 27 رکن ممالک بہتر مریض دیکھ بھال کو اس ٹیکنالوجی کے استعمال کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔شنہوا کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً 74 فیصد یورپی ممالک پہلے ہی مصنوعی ذہانت پر مبنی تشخیصی نظام استعمال کر رہے ہیں، جن میں میڈیکل امیجنگ، بیماریوں کی نشاندہی اور کلینیکل فیصلوں میں معاونت شامل ہے۔
اس کے علاوہ 63 فیصد ممالک مریضوں سے رابطے کے لیے چیٹ بوٹس کا استعمال بھی کر رہے ہیں۔رپورٹ کے مطابق کئی ممالک نے صحت کے شعبے میں اے آئی اور ڈیٹا سائنس کے لیے خصوصی پیشہ ورانہ عہدے بھی قائم کیے ہیں، جبکہ کچھ ممالک اس حوالے سے تربیتی پروگرام شروع کرنے یا وسعت دینے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او جس کا صدر دفتر کوپن ہیگن میں واقع ہے، کا کہنا ہے کہ اے آئی کے بڑھتے استعمال کے ساتھ طبی عملے کی تربیت اور تیاری پر بھی خاص توجہ دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے تعلیمی نصاب اور پیشہ ورانہ تربیت میں اے آئی سے متعلق آگاہی شامل کی جا رہی ہے تاکہ صحت کے کارکن اس ٹیکنالوجی کو مؤثر اور ذمہ دارانہ طریقے سے استعمال کر سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اے آئی کے مؤثر استعمال کے لیے عوام اور متعلقہ فریقین کی شمولیت ضروری ہے۔ تقریباً 81 فیصد یورپی ممالک پہلے ہی صحت کے شعبے میں اے آئی پالیسی سازی میں مختلف اسٹیک ہولڈرز کو شامل کر رہے ہیں، جبکہ عوامی مشاورت سے اعتماد میں اضافہ ممکن ہے۔رپورٹ نے حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت کی تعلیم و تربیت، شفاف پالیسی سازی اور جدید ٹیکنالوجی کے محفوظ و منصفانہ استعمال کے لیے مشترکہ معیارات قائم کرنے پر توجہ دیں۔








