عالمی یومِ ملیریا کے موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تمام شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں ملیریا کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ ردعمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور سائنسی بنیادوں پر تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے۔
پاکستان میں ملیریا کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، ڈبلیو ایچ او کی تمام شراکت داروں سے اپیل

مزید خبریں
اسلام آباد۔25اپریل (اے پی پی):عالمی یومِ ملیریا کے موقع پر عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے تمام شراکت داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ پاکستان میں ملیریا کے دوبارہ پھیلاؤ کو روکنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں، ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ ردعمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور سائنسی بنیادوں پر تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے۔ یہاں جاری ایک بیان کے مطابق سال 2025 میں پاکستان نے 2024 کے مقابلے میں ملیریا کے کیسز میں 10 فیصد کمی کی، تاہم اس کے باوجود ملک میں 18 لاکھ کیسز رپورٹ ہوئے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ ملک ابھی تک 2022 کے موسمیاتی سیلاب کے باعث پیدا ہونے والے اضافے سے مکمل طور پر نہیں سنبھل سکا۔ جہاں 2021 میں 3,99,097 تصدیق شدہ کیسز سے بڑھ کر 2023 میں 27 لاکھ کی بلند ترین سطح تک پہنچ گئے۔
عالمی یومِ ملیریا کی تقریبات کے تحت ڈبلیو ایچ او اور اس کے شراکت داروں نے ایک عالمی مہم شروع کی ہے جس کا مقصد اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انسانی جانوں کا تحفظ کرنا اور ملیریا سے پاک مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کرنا ہے۔ مہم کا عنوان ”ملیریا کے خاتمے کے لیے پْرعزم: اب ہم کر سکتے ہیں۔ اب ہمیں کرنا ہی ہوگا۔” ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آج دستیاب وسائل اور ذرائع کے ساتھ ہم سب مل کر ایک تاریخی موقع رکھتے ہیں کہ اپنی آنے والی نسلوں کو ملیریا سے پاک دنیا دے سکیں۔ ڈبلیو ایچ او پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے تاکہ ردعمل کو مزید مضبوط بنایا جا سکے اور سائنسی بنیادوں پر تکنیکی معاونت فراہم کی جا سکے تاکہ ایسا مستقبل تعمیر کیا جا سکے جہاں کوئی خاندان ملیریا کی وجہ سے اپنے پیارے کو نہ کھوئے۔ اپریل 2026 میں ڈبلیو ایچ او نے ایک ملکی سطح پر ملیریا پروگرام کے جائزے میں تعاون کیا جس کے تحت مختلف صوبوں میں صحت کی سہولیات کا دورہ کیا گیا۔
اس کا مقصد شواہد اور سیکھے گئے اسباق کو جمع کرنا تھا تاکہ وفاقی اور صوبائی سطح پر روک تھام، نگرانی، علاج، شواہد پر مبنی مچھر کنٹرول، ڈیٹا سسٹمز اور ہنگامی تیاری کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔ سال 2025 میں پاکستان نے تقریباً 1 کروڑ 69 لاکھ مشتبہ کیسز کی اسکریننگ کی اور تقریباً 18 لاکھ تصدیق شدہ مریضوں کو ڈبلیو ایچ او شراکت داروں، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے تعاون سے مفت علاج فراہم کیا جس میں ایڈز، تپ دق اور ملیریا کے خاتمے کے لیے گلوبل فنڈ کی مالی معاونت بھی شامل تھی۔
2023 سے 2025 کے دوران تین سالہ مدت میں پاکستان میں تقریباً 1 کروڑ 20 لاکھ مچھر دانیوں کی تقسیم کی گئی تاکہ مچھر کے کاٹنے سے بچاؤ ممکن ہو سکے۔ اس کے علاوہ، کمیونٹی کی سطح پر کیس مینجمنٹ کو حال ہی میں اپنایا گیا ہے جو دور دراز علاقوں تک رسائی کے لیے مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ پاکستان میں ملیریا کی منتقلی زیادہ تر بلوچستان، دیہی سندھ، اور خیبر پختونخوا کے بعض اضلاع میں برقرار ہے۔








