سندھ طاس معاہد ے کی معطلی ،پاکستانی شعبہ لائیو سٹاک کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے

بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل یا زیر التوا رکھنے کے کسی بھی قسم کے غیر قانونی اقدام کے نتیجے سے پاکستان میں لائیو سٹاک کے شعبے کو جانوروں کےلئے پینے کے صاف پانی ، چارے کی شدید کمی ،مویشیوں کی صحت ، دودھ و گوشت کی کم پیداوار کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے

اسلام آباد۔26اپریل (اے پی پی):بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل یا زیر التوا رکھنے کے کسی بھی قسم کے غیر قانونی اقدام کے نتیجے سے پاکستان میں لائیو سٹاک کے شعبے کو جانوروں کےلئے پینے کے صاف پانی ، چارے کی شدید کمی ،مویشیوں کی صحت ، دودھ و گوشت کی کم پیداوار کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جس کا براہِ راست اثر کسان طبقہ اور دیہی معیشت پر پڑے گا اور شہروں کی طرف نقل مکانی کی شرح میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔ لائیو سٹاک کے شعبے کے ماہرین کے مطابق مویشیوں کو روزانہ بڑی مقدار میں پینے کے صاف پانی کی ضرورت ہوتی ہے، معاہدے کی معطلی یا اس کو زیر التوا رکھنے سے دریاؤں اور نہروں میں پانی کی دستیابی میں کمی کے نتیجے میں زیرِ زمین پانی کی سطح میں بھی کمی ہو جائے گی۔ اگر جانوروں کو پینے کےلئے کم یا گندہ پانی ملے گا تو جانور کمزور، بیمار اور پانی کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آبپاشی کے لئے پانی کی کم دستیابی سے چارے کی پیداوار سمیت فصلوں کی باقیات اور قدرتی چراگاہوں میں کمی کے مسائل بھی جنم لے سکتے ہیں جس سے کم اور نا مناسب خوراک کے نتیجے میں جانوروں کی صحت متاثر ہو نے کے خدشات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق پانی اور خوراک کی کمی سے دودھ،گوشت کی پیداوار میں کمی اور معیار بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ مزید برآں جانوروں کی صحت کے مسائل سے افزائش نسل میں کمی ،نشوونما میں کمی،بیماریوں اور شرح اموات میں اضافے کے ساتھ ساتھ اس شعبے میں طبی اخراجات میں اضافے، دودھ اور گوشت کی پیداوار میں کمی سے غذائی تحفظ کے مسائل میں اضافے کا خدشہ ہے۔ ماہرین کے مطابق بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی یا اس کو زیر التوا رکھنے کے کسی بھی غیر قانونی اقدام کی وجہ سے لائیو سٹاک کے شعبے کےلئے چارے و پانی کے اخراجات میں اضافے، دودھ اور گوشت سے حاصل ہونے والی آمدنی میں کمی سے چھوٹے کسان سب سے زیادہ متاثر ہوں گے جس سے غربت کی شرح میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح اس کے طویل المدتی اثرات میں مویشیوں کی تعداد میں کمی، ڈیری سیکٹر کے متاثر ہونے سےکسان دوسرے پیشوں کی طرف منتقل ہو سکتے ہیں جس کے سماجی اثرات میں دیہات سے شہروں کی طرف ہجرت میں اضافہ، خوراک کی کمی (دودھ، گوشت)اور دیہی معیشت کے مسائل وغیرہ بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔\395

مزید خبریں