وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے پولی کلینک ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی عدم فراہمی اور انتظامی مسائل پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ سے ادویات کی خرید و تقسیم کی مکمل تفصیلات اور ڈاکٹروں کا ڈیوٹی روسٹر طلب کر لیا ہے
وفاقی محتسب کا پولی کلینک میں ادویات کی قلت اور انتظامی خامیوں پر نوٹس، مکمل رپورٹ اور ڈیوٹی روسٹر طلب
اسلام آباد۔5مئی (اے پی پی):وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے پولی کلینک ہسپتال میں مریضوں کو ادویات کی عدم فراہمی اور انتظامی مسائل پر سخت نوٹس لیتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ سے ادویات کی خرید و تقسیم کی مکمل تفصیلات اور ڈاکٹروں کا ڈیوٹی روسٹر طلب کر لیا ہے۔وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے ہدایت کی ہے کہ کوئی بھی مریض ہسپتال سے دوا کے بغیر واپس نہ جائے اور ہر مریض کو ڈاکٹر کے نسخے کے مطابق مکمل ادویات فراہم کی جائیں۔ انہوں نے اسلام آباد کے رہائشیوں کو بہتر طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے جی-11 میں زیر تعمیر پولی کلینک-II منصوبے کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کی بھی ہدایت کی۔وفاقی محتسب نے ہسپتال میں صفائی کے نظام کو بہتر بنانے، ڈاکٹروں، نرسوں اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خالی آسامیوں کو قانون کے مطابق جلد پر کرنے اور ڈسپنسریوں کی کارکردگی بہتر بنانے کی ہدایت کی۔ اس کے علاوہ ادویات کی مؤثر تقسیم کا جامع پلان پیش کرنے اور الٹراساؤنڈ سروسز کو بہتر بنانے پر بھی زور دیا گیا۔
ترجمان کے مطابق یہ ہدایات پولی کلینک ہسپتال کے دورے کے بعد معائنہ ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں جاری کی گئیں۔ معائنہ ٹیم سینئر ایڈوائزر رعنا سیرت کی سربراہی میں ایڈوائزر میجر جنرل (ر) ہارون سکندر پاشا، کنسلٹنٹ پرویز حلیم اور کنسلٹنٹ خالد سیال پر مشتمل تھی جس نے ہسپتال کا اچانک دورہ کیا اور مریضوں اور ان کے لواحقین کی شکایات سنیں۔دورے کے دوران مریضوں نے ادویات کی عدم دستیابی، لیبارٹری ٹیسٹ اور آپریشن کے لئے 7 سے 8 ماہ بعد کی تاریخیں ملنے، ڈاکٹروں کی تاخیر سے آمد اور نسخے کے مطابق مکمل ادویات نہ ملنے کی شکایات کیں۔ اس کے علاوہ ہسپتال میں غیر معمولی رش، صفائی کی ناقص صورتحال اور بعض ٹیسٹ باہر سے کرانے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔معائنہ ٹیم نے ایمرجنسی، او پی ڈی، لیبارٹری، سٹور اور کچن سمیت مختلف شعبوں کا جائزہ لیا اور صفائی کی غیر تسلی بخش صورتحال پر انتظامیہ کو فوری اقدامات کی ہدایت کی۔ ٹیم نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ہسپتال کی واحد لفٹ خراب ہے جس سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
وفاقی محتسب نے ہدایت کی کہ عملے کی بروقت حاضری یقینی بنانے کےلئے بائیو میٹرک نظام کو فعال کیا جائے اور خصوصاً کچن میں صفائی کے لئے ایس او پیز بنا کر ان پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے۔ انہوں نے مریضوں کی رہنمائی کے لئے ہسپتال میں مددگار ڈیسک قائم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ آنے والے افراد کو متعلقہ شعبوں تک آسانی سے رسائی مل سکے۔









