’’سٹیٹ آف چلڈرن ان پاکستان رپورٹ 2025‘‘اور بچوں کے حقوق سے متعلق اہم اقدامات کی افتتاحی تقریب ،اعظم نذیرتارڑ کی بطور مہمان خصوصی شرکت

’’سٹیٹ آف چلڈرن ان پاکستان رپورٹ 2025‘‘اور بچوں کے حقوق سے متعلق اہم اقدامات کی افتتاحی تقریب ،اعظم نذیرتارڑ کی بطور مہمان خصوصی شرکت

اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر برائے قانون و انصاف اور انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے قومی کمیشن برائے حقوق اطفال(این سی آر سی) کی جانب سے سالانہ فلیگ شپ رپورٹ کے دوسرے ایڈیشن کی تیاری کو سراہتے ہوئے اسے بچوں کے حقوق کے حوالے سے احتساب، پالیسی سازی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے فروغ کے لیے ایک اہم شواہد پر مبنی دستاویز قرار دیا ہے۔ انھوں نے یہ بات بدھ کو یہاں قومی کمیشن برائے حقوق اطفال (این سی آر سی) اور یونیسیف پاکستان کے اشتراک سے اسلام آباد میں ’’سٹیٹ آف چلڈرن ان پاکستان رپورٹ 2025‘‘ اور بچوں کے حقوق سے متعلق اہم اقدامات کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔

وفاقی وزیر سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی اور بچوں کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کے لیے حکومت پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔ سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آئین پاکستان، اقوام متحدہ کے کنونشن برائے حقوق اطفال اور اس کے اختیاری پروٹوکولز ریاست پر یہ لازمی ذمہ داری عائد کرتے ہیں کہ وہ ہر بچے کے حقوق کے تحفظ، فروغ اور تکمیل کو یقینی بنائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ محض رسمی وعدے نہیں بلکہ ملک کے 115 ملین سے زائد بچوں کے لیے ریاست کی قانونی ذمہ داریاں ہیں۔وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ رپورٹ بچوں کے تحفظ اور حقوق کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم پیش رفت کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے نیشنل چائلڈ رائٹس انٹیگریٹڈ ڈیش بورڈ کے اجراء کا خیرمقدم کیا جس کا مقصد حقیقی وقت میں نگرانی، کیس ٹریکنگ اور مختلف اداروں کے درمیان بہتر رابطہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے اہم قانون سازی اور اشارہ جاتی پیشرفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری، بلوچستان اور حال ہی میں پنجاب چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل 2026 کی منظوری بچوں کے تحفظ کی جانب اہم اقدامات ہیں جن کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر اٹھارہ سال مقرر کی گئی ہے۔

ادارہ جاتی اصلاحات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ جنوری 2025ء میں نیشنل میکانزم فار رپورٹنگ اینڈ فالو اپ (این ایم آر ایف) کا قیام وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان بین الاقوامی انسانی حقوق کے وعدوں پر عملدرآمد کے لیے موثر رابطہ کاری کی جانب ایک اہم قدم ہے۔سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حکومتِ پاکستان پارلیمنٹیرینز، ترقیاتی شراکت داروں، سول سوسائٹی، اکیڈیمیا، میڈیا اور بچوں سمیت تمام متعلقہ فریقین کے ساتھ مل کر ہر بچے کے لیے محفوظ، باوقار اور حقوق پر مبنی مستقبل کے فروغ کے لیے کام جاری رکھے گی۔