بلوچستان میں چائنیز لینگویج، ٹیکنیکل ٹریننگ اور سی پیک سکل پروگرامز جون سے شروع ہوں گے، انجینئر منصور الحسن

بلوچستان میں چائنیز لینگویج، ٹیکنیکل ٹریننگ اور سی پیک سکل پروگرامز جون سے شروع ہوں گے، انجینئر منصور الحسن

اسلام آباد۔6مئی (اے پی پی):ٹینگ گروپ اور چائنا پاکستان ٹی وی ای ٹی انڈسٹریل سینٹر آف ایکسیلینس (سی پی ٹی آئی سی ای) کے کنٹری ڈائریکٹر انجینئر منصور الحسن نے گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سے تفصیلی ملاقات کی جس میں بلوچستان میں چائنیز زبان، ٹیکنیکل و ووکیشنل ٹریننگ اور سی پیک سے متعلق جدید سکل پروگرامز کے آغاز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات کے دوران بلوچستان میں شروع کیے جانے والے اہم منصوبے ’’گورنر بلوچستان شیخ جعفر خان مندوخیل سلک روٹ سکل، ووکیشنل ٹریننگ اینڈ لینگویج پروگرام‘‘ پر بھی گفتگو ہوئی جو بلوچستان کی 12 سرکاری اور ایک نجی یونیورسٹی سمیت مجموعی طور پر 13 جامعات میں شروع کیا جائے گا۔

انجینئر منصور الحسن نے بتایا کہ پروگرام کے تحت ایچ ایس کے لیول 4 تک چائنیز زبان کی تعلیم فراہم کی جائے گی جبکہ متعلقہ یونیورسٹیوں کی تفصیلی فہرست جلد جاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد بلوچستان کے نوجوانوں کو چائنیز زبان، جدید ٹیکنالوجی اور عالمی معیار کی فنی مہارتوں سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بہتر روزگار کے مواقع حاصل کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ چائنیز لینگویج پروگرام کے ساتھ ’’ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ پروگرام‘‘ بھی شروع کیا جا رہا ہے جس میں شارٹ کورسز، ڈپلومہ پروگرامز اور ایپرنٹس شپ پر مبنی تربیت شامل ہوگی۔ اس پروگرام کے ذریعے بلوچستان کے نوجوانوں کو جدید چائنیز ٹیکنالوجیز سے متعارف کرایا جائے گا جبکہ مقامی ٹیوٹا اور ایچ ای سی پروگرامز کو چائنیز ہائر ڈپلومہ سسٹم سے منسلک کیا جائے گا۔

انجینئر منصور الحسن کے مطابق تربیت مکمل کرنے والے طلبہ کو مرحلہ وار روزگار کے مواقع بھی فراہم کیے جائیں گے جبکہ تمام پروگرامز انشاء اللہ جون 2026ء میں باضابطہ طور پر لانچ کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کا مسودہ تیار کیا جا رہا ہے جو جلد گورنر بلوچستان کو ارسال کیا جائے گا۔انہوں نے مزید بتایا کہ بلوچستان میں ’’سی پیک ٹریننگ سینٹرز‘‘ بھی قائم کیے جا رہے ہیں جہاں سی پیک سے متعلق 210 جدید ٹیکنالوجیز کی بنیاد پر خصوصی تربیتی پروگرامز ترتیب دیئے گئے ہیں۔ ان پروگرامز سے نہ صرف موجودہ طلبہ بلکہ یونیورسٹی گریجویٹس اور ایلومنائی بھی استفادہ کر سکیں گے۔اسی طرح ’’چائنہ گلوبل پروفیشنل ٹیکنیکل سرٹیفکیشن سسٹم‘‘ بھی متعارف کروایا جا رہا ہے جس کے تحت نوجوانوں کو عالمی معیار کی سرٹیفکیشن اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

الیکٹرک وہیکل (ای وی) ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں خصوصی لیبارٹریز قائم کی جائیں گی جبکہ تربیت کا ایک حصہ پاکستان اور دوسرا چین میں مکمل ہوگا۔ کامیاب امیدواروں کو اوورسیز جاب مارکیٹ سے بھی منسلک کیا جائے گا۔انجینئر منصور الحسن نے بتایا کہ اس سلسلے میں چیئرپرسن نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (نیوٹیک) گلمینا بلال سے بھی ملاقات کی گئی جس میں وفاقی سطح پر مشترکہ پروگرامز اور پارٹنرشپس پر تبادلہ خیال ہوا۔

انہوں نے کہا کہ ستمبر تک بلوچستان میں مزید پروگرامز متعارف کروانے کی تجویز زیر غور ہے جن میں دو سالہ ایسوسی ایٹ ڈگری پروگرامز (اے ڈی پی) بھی شامل ہوں گے جنہیں چائنیز ڈپلومہ سسٹم کے ساتھ منسلک کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شارٹ سکل ٹریننگ پروگرامز کا خصوصی فوکس بلوچستان کے ان شعبوں پر ہوگا جہاں روزگار اور وسائل کی وسیع گنجائش موجود ہے جن میں پورٹ مینجمنٹ، پورٹ اینڈ شپنگ، مائننگ، منرل ایکسٹرکشن، جیمز اور معدنیات کے شعبے شامل ہیں۔ ان پروگرامز کے ذریعے مقامی نوجوانوں کو ہنر مند بنا کر انہی صنعتوں اور کمپنیوں سے منسلک کیا جائے گا جو بلوچستان میں کام کر رہی ہیں تاکہ مقامی افرادی قوت کو ترقی اور روزگار کے بہتر مواقع حاصل ہو سکیں۔