افواجِ پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور عسکری برتری کا لوہا منوایا، شیخ انوارالحق کی اے پی پی سے خصوصی گفتگو
افواجِ پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور عسکری برتری کا لوہا منوایا، شیخ انوارالحق کی اے پی پی سے خصوصی گفتگو

مزید خبریں
لاہور۔7مئی (اے پی پی):سابق ڈپٹی اٹارنی جنرل آف پاکستان شیخ انوارالحق نے کہا ہے کہ افواجِ پاکستان نے آپریشن بنیان مرصوص کے ذریعے دشمن کو منہ توڑ جواب دے کر اپنی پیشہ ورانہ مہارت، جرات اور عسکری برتری کا لوہا منوایا۔ معرکہ حق محض الفاظ نہیں بلکہ وہ عظیم فکری، اخلاقی اور قومی تصورات ہیں جو کسی بھی قوم کی بقا، استحکام، خودمختاری کی بنیاد ہوتے ہیں۔ جمعرات کو اے پی پی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیخ انوارالحق نے کہا کہ بنیان مرصوص اتحاد، نظم و ضبط، باہمی اعتماد اور اجتماعی قوت کی علامت ہے۔ قرآن مجید میں جس سیسہ پلائی ہوئی دیوار کا ذکر کیا گیا ہے وہ دراصل ایسی قوم کی مثال ہے جو ذاتی مفادات اور اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی مفاد، انصاف اور سچائی کے لیے متحد ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش داخلی و خارجی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری قوم کو اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برس جب بھارت نے پاکستان کی جانب میلی نگاہ اٹھائی تو افواجِ پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا ۔ انہوں نے پاک افواج کی بہادری اور قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم اپنی بہادر افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ایک مومن استقامت، ایمان اور عزم کے ساتھ میدانِ عمل میں اترتا ہے تو دشمن اس کے حوصلے کے سامنے ٹھہر نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پاک فوج کے جوانوں کے حوصلے فولادی ہیں اور انہوں نے ہمیشہ وطن عزیز کی سرحدوں کی حفاظت اپنے خون سے یقینی بنائی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بطور پاکستانی ہم سب کا فرض ہے کہ اپنی افواج کے حوصلے بلند رکھیں اور قومی یکجہتی کو مزید مضبوط بنائیں۔ ایک اور سوال کے جواب میں شیخ انوارالحق نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان اور فیلڈ مارشل کی ولولہ انگیز قیادت میں حاصل ہونے والی یہ عظیم کامیابی قومی اتحاد، عسکری مہارت اور سفارتی بصیرت کا روشن باب ہے جسے نئی نسل تک منتقل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ معرکہ حق بنیان مرصوص کی پہلی سالگرہ منانے کا مقصد افواجِ پاکستان کی بے مثال قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنا، یومِ تشکر منانا اور قومی اتحاد و یکجہتی کے پیغام کو مزید مضبوط بنانا ہے۔انہوں نے کہا کہ معرکہ حق بنیان مرصوص محض ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ قومی اتحاد اور اجتماعی عزم کا مظہر ہے۔ اس معرکے نے نہ صرف دشمن کے غرور کو خاک میں ملایا بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کی عسکری، دفاعی اور سفارتی حیثیت کو مزید مستحکم کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت جن فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو اپنی عسکری برتری کی علامت سمجھتا تھا، پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اپنی اعلی پیشہ ورانہ مہارت اور مقامی دفاعی صلاحیتوں کے ذریعے انہیں ناکام بنا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کامیابی کے بعد پاکستان کی دفاعی مصنوعات اور مقامی ٹیکنالوجی کی عالمی سطح پر پذیرائی میں نمایاں اضافہ ہوا جبکہ دنیا بھر میں پاکستان کی عسکری مہارت اور دفاعی صلاحیتوں کا اعتراف کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وہ کامیابی ہے جس نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک مضبوط ریاست کے طور پر مزید نمایاں کیا۔ شیخ انوارالحق نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پوری قوم کو اپنے سپہ سالار پر فخر ہے جنہوں نے اپنی حکمت عملی اور غیر متزلزل عزم سے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔
انہوں نے کہا کہ معرکہ حق کو قومی درسی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہیے تاکہ نوجوان نسل اس تاریخی کامیابی، افواجِ پاکستان کی قربانیوں اور قومی اتحاد کے اس روشن باب سے آگاہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معرکہ صرف جنگی کامیابی نہیں بلکہ ریاستی استحکام کی علامت بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے تمام مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اپنی عبادت گاہوں میں ملکی سلامتی اور افواجِ پاکستان کی کامیابی کے لیے دعاگو ہیں۔
آپریشن بنیان مرصوص نے پوری قوم کو ایک لڑی میں پرو دیا ہے اور تمام داخلی اختلافات سے بالاتر ہو کر قوم ایک پرچم تلے متحد ہو چکی ہے۔ شیخ انوارالحق نے کہا کہ میڈیا، وکلا، دانشوروں، اساتذہ اور سول سوسائٹی پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ قومی شعور کی بیداری، آئینی اقدار کے فروغ اور سچائی پر مبنی بیانیے کے استحکام میں اپنا موثر کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، تاہم قومی مفاد، ریاستی استحکام اور اجتماعی سلامتی کو ہر حال میں مقدم رکھا جانا چاہیے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستانی قوم اپنے اسلاف کی قربانیوں، آئینی اصولوں اور قومی نظریات کی روشنی میں ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔








