پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر عبد القادر جمیل کی سالگرہ اتوار 10 مئی کو منائی گئی۔ وہ 10 مئی 1944 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے 4 ٹیسٹ میچ کھیلے اور کوئی کیچ نہیں پکڑا لیکن بلے باز کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔عبد القادر جمیل نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر عبد القادر جمیل کی سالگرہ اتوار کو منائی گئی
اسلام آباد۔10مئی (اے پی پی):پاکستان کرکٹ ٹیم کے وکٹ کیپر عبد القادر جمیل کی سالگرہ اتوار 10 مئی کو منائی گئی۔ وہ 10 مئی 1944 میں کراچی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پاکستان کی طرف سے 4 ٹیسٹ میچ کھیلے اور کوئی کیچ نہیں پکڑا لیکن بلے باز کی حیثیت سے اپنی شناخت بنائی۔عبد القادر جمیل نے ابتدائی تعلیم سندھ مدرسۃ الاسلام سے حاصل کی۔
وہ مشہور عالم دین مفتی اعظم پاکستان مولانا صاحب داد خان جمالی کے صاحبزادے تھے ان کے دو بھائیوں عبد العزیز اور عبد الرشید نے بھی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلی۔ کرکٹ سے فراغت کے بعد عبد القادر جمیل نے نیشنل بینک آف پاکستان میں بطور نائب صدر خدمات انجام دیں انھوں نے پاکستان کے ساتھ ساتھ کراچی اور پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائنز کی طرف سے بھی کرکٹ کھیلی۔
اکتوبر 1964 میں آسٹریلیا کے خلاف کراچی میں ہونے والے واحد ٹیسٹ کے لیے پاکستان کی طرف سے چھ نئے کھلاڑیوں کا انتخاب کیا گیا آصف اقبال، ماجدخان ،پرویز سجاد،شفقت رانا سمیت 20 سالہ عبد القادر جمیل نے اپنے ساتھی ڈیبیو کرنے والے خالد عباد اللہ کے ساتھ مل کر پہلی وکٹ پر249 رنز کا اضافہ کیا جو کسی بھی ٹیم کا اس وقت بہترین ریکارڑ تھا جو 1997-98ء تک قائم رہا ۔عبد القادر جمیل نے 4 ٹیسٹ میچوں کی 8 اننگز میں 272 رنز بنائے جس میں 95 ان کا سب سے زیادہ سکور تھا۔
انہوں نے دو نصف سنچریاں بھی سکور کین جبکہ 36 فرسٹ کلاس میچوں کی 60 اننگز میں 7 بار ناٹ آئوٹ رہ کر انھوں نے 1523 رنز بنائے۔ 114 ناٹ آوٹ ان کا بہترین سکور تھا۔ان کے سکور میں ایک سنچری اور 7 نصف سنچریاں بھی شامل تھیں۔ٹیسٹ میں انھوں نے ایک اسٹمپ کیا جبکہ فرسٹ کلاس میچوں میں بطور وکٹ کیپر 46 کیچز اور 13 اسٹمپ ان کے ریکارڈ کا حصہ تھے۔عبد القادر جمیل 12 مارچ 2002کو کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی سالگرہ کے موقع پر کھیلوں سے دلچسپی رکھنے والے حلقوں کی جانب سے انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا۔









