لبنان میں جنگ بندی کے باوجود شہریوں پر حملے جاری، اقوامِ متحدہ کا اظہارِ تشویش

اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی ادارے نے کہا ہے کہ لبنان میں تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے باوجود شہریوں اور امدادی کارکنوں پر حملے بدستور جاری ہیں۔

اقوام متحدہ ۔15مئی (اے پی پی):اقوامِ متحدہ کے انسانی امدادی ادارے نے کہا ہے کہ لبنان میں تقریباً ایک ماہ سے جاری جنگ بندی کے باوجود شہریوں اور امدادی کارکنوں پر حملے بدستور جاری ہیں۔اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور (اویس ایچ اے ) کے مطابق بدھ کے روز دارالحکومت بیروت سے تقریباً 20 کلومیٹر جنوب میں واقع جیّہ (Jiyeh) کے علاقے میں گاڑیوں پر ڈرون حملوں کے نتیجے میں کم از کم 8 افراد ہلاک ہوئے، جن میں دو بچے بھی شامل ہیں۔لبنان کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ کشیدگی کے بعد اب تک کم از کم 2,896 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 200 بچے شامل ہیں، جبکہ 8 ہزار سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے باعث ملک بھر میں بے گھر افراد کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار افراد 632 اجتماعی پناہ گاہوں میں مقیم ہیں۔اوچا کے مطابق جنوبی لبنان اور صوبہ بقاع کے آٹھ دیہات کے لیے نئے انخلا کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں، جس کے باعث مزید آبادی نقل مکانی پر مجبور ہو رہی ہے۔ادارے نے خبردار کیا کہ غیر محفوظ حالات اور وسیع تباہی کے باعث متاثرہ افراد کی محفوظ واپسی ممکن نہیں ہو پا رہی۔ جنوبی لبنان میں تباہ شدہ سڑکیں، پل، بارودی مواد اور ملبہ امدادی سرگرمیوں میں بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔اوسی ایچ اے کے مطابق کشیدگی کے آغاز سے اب تک ضروری امدادی سامان لے جانے والی 132 انسانی امدادی نقل و حرکت کو سہولت فراہم کی جا چکی ہے۔

مزید خبریں