وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اہم بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں تیزی لانے کا حکم جاری کر دیا۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ حکم ان منصوبوں میں وفاقی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے جہاں صوبائی وعدے پورے نہیں ہو سکے۔
وفاقی وزیر مواصلات کی صوبائی حکومتوں کے عدم تعاون پر این ایچ اے کو اپنےمنصوبے مکمل کرنے کی ہدایت

مزید خبریں
اسلام آباد۔15مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے اہم بنیادی ڈھانچے کی تکمیل میں تیزی لانے کا حکم جاری کر دیا۔ جاری پریس ریلیز کے مطابق انہوں نے کہا کہ یہ حکم ان منصوبوں میں وفاقی مداخلت کی نشاندہی کرتا ہے جہاں صوبائی وعدے پورے نہیں ہو سکے۔پنجاب اور خیبر پختونخواہ حکومتوں کے زیرانتظام منصوبوں کی پیشرفت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے واضح کیا کہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ سست روی کئی اہم منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے۔
انہوں نے خصوصی طور پر نشاندہی کی کہ پشاور ناردرن بائی پاس کے حوالے سے خیبر پختونخواہ حکومت کا پانچ ماہ سے زائد انتظار کیا گیا، تاہم اب اگر صوبائی فنڈز فراہم نہ کیے گئے تو این ایچ اے اس منصوبے کو آزادانہ طور پر خود مکمل کرنے کے لیے تیار ہے۔ مزید برآں، وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ پنجاب حکومت نےراولپنڈی۔کہوٹہ منصوبے کے لیے اپنے اعلان کردہ حصے کے فنڈ مہیا نہیں کئے ۔انہوں نے ہدایت جاری کی کہ این ایچ اے ان نامکمل ٹرانزٹ راہداریوں کو حتمی شکل دینے کی مکمل ذمہ داری خود سنبھال لے۔ وفاقی وزیرمواصلات عبدالعلیم خان نے موٹروے نیٹ ورک کی تزویراتی توسیع کا حکم بھی دیا جس کے تحت لاہور۔سیالکوٹ موٹروے کو چار سے چھ لین تک وسیع کیا جائے گا۔
انہوں نے اس امر کو بھی یقینی بنانے کی ہدایت کی کہ سیالکوٹ۔کھاریاں اور کھاریاں۔راولپنڈی موٹروے کو بھی چھ لین کی سہولت کے ساتھ تعمیر کیا جائے۔انہوں نے ہدایت کی کہ این ایچ اے کے تمام منصوبوں کی فزیبلٹی 100 فیصد درست ہونی چاہیے اور جاری کاموں کے آخری مراحل بالخصوص پشاور ناردرن بائی پاس کے پلوں کی تعمیر جولائی میں مون سون شروع ہونے سے پہلے مکمل کی جانی چاہیے۔ اجلاس میں سیکرٹری مواصلات اور چیئرمین این ایچ اے سمیت دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر عبدالعلیم خان نے اس عزم کو دہرایا کہ وزارت قومی ٹرانسپورٹ انفراسٹرکچر کی کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے منصوبوں کی برق رفتار تکمیل کو ترجیح دے گی۔








