پی آر سی سی ایس ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم کا بیجنگ میں کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا کے انسٹیٹیوٹ فار کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر کا دورہ

پی آر سی سی ایس ایف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم کا بیجنگ میں کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا کے انسٹیٹیوٹ فار کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر کا دورہ

اسلام آباد۔18مئی (اے پی پی):پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (پی آر سی سی ایس ایف) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر خالد تیمور اکرم نے بیجنگ میں کمیونیکیشن یونیورسٹی آف چائنا (سی یو سی ) کے انسٹیٹیوٹ فار کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر (آئی سی ایس ایف ) کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انسٹیٹیوٹ کے ڈین پروفیسر لی ہوائی لیانگ نے خالد تیمور اکرم کا خیر مقدم کیا اور آئی سی ایس ایف کی انتظامی ٹیم کے ہمراہ ان سے ملاقات کی۔ملاقات میں آئی سی ایس ایف کے ڈپٹی ڈین پروفیسر ژانگ یان چیو، آفس آف آئی سی ایس ایف کی سیکشن چیف ڈاکٹر گے یان لِنگ جبکہ کنفیوشس انسٹیٹیوٹ مینجمنٹ آفس کی سیکشن چیف سن یوہونگ بھی شریک تھیں۔جاری بیان کے مطابق ملاقات کے دوران پروفیسر لی ہوائی لیانگ نے صدر شی جن پنگ کے پیش کردہ ’’مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری‘‘ کے تصور کے فروغ میں خالد تیمور اکرم کی نمایاں خدمات کو سراہا۔

انہوں نے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے حق میں عالمی علمی برادری کی حمایت کے فروغ میں ان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ پروفیسر لی ہوائی لیانگ نے پاکستان ریسرچ سینٹر فار اے کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر کے کردار کی بھی تعریف کی اور کہا کہ ادارہ علاقائی روابط، باہمی مفاد پر مبنی تعاون، اقتصادی انضمام اور ثقافتی تبادلوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جو خطے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے نہایت اہم ہے۔اس موقع پر خالد تیمور اکرم نے بھی پروفیسر لی ہوائی لیانگ اور انسٹیٹیوٹ فار کمیونٹی ود شیئرڈ فیوچر کی علمی تعاون، بین الثقافتی مکالمے اور مختلف ممالک کے اداروں اور سکالرز کے درمیان تحقیقی روابط کے فروغ کے لئے کاوشوں کو سراہا۔

انہوں نے مشترکہ ترقی اور پائیدار مستقبل کے حصول کے لئے فکری شراکت داریوں اور باہمی افہام و تفہیم کو مزید مضبوط بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔ملاقات میں مستقبل کے مشترکہ ورکنگ پلانز، تحقیقی تعاون اور مشترکہ تقریبات کے انعقاد پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں اداروں کے درمیان علمی روابط کو مزید مستحکم بنانے، مشترکہ تحقیقی منصوبوں کے فروغ اور ’’مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری‘‘ کے وژن کے مطابق تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔فریقین نے مشترکہ سیمینارز، ورکشاپس، کانفرنسز اور تعلیمی تبادلہ پروگرامز کے انعقاد کے امکانات پر بھی غور کیا جن کا مقصد مختلف پس منظر رکھنے والے سکالرز کے درمیان بین الثقافتی ہم آہنگی، تجربات کے تبادلے اور بہترین عملی نمونوں کے فروغ کو یقینی بنانا ہے۔ملاقات کے اختتام پر دونوں جانب سے اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ علمی شراکت داریوں کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور امن، پائیدار ترقی، علاقائی ہم آہنگی اور “مشترکہ مستقبل کی حامل عالمی برادری” کے وژن کے فروغ کے لئے باہمی تعاون جاری رکھا جائے گا۔