نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میں پاکستان اور چین کی قیادت کے لئے اپنی گہری ستائش کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے پاک -چین دوستی کے مضبوط رشتے کو مزید مستحکم بنانے میں بصیرت افروز کردار ادا کیا،دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے اور سٹریٹجک روابط کو مضبوط بنانے میں قیادت کی انتھک کاوشیں نہایت قابلِ قدر رہی ہیں
پاک -چین ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی ہر آزمائش کا سامنا کیا ، اسحاق ڈار

مزید خبریں
اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ میں پاکستان اور چین کی قیادت کے لئے اپنی گہری ستائش کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے پاک -چین دوستی کے مضبوط رشتے کو مزید مستحکم بنانے میں بصیرت افروز کردار ادا کیا،دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے اور سٹریٹجک روابط کو مضبوط بنانے میں قیادت کی انتھک کاوشیں نہایت قابلِ قدر رہی ہیں، گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاک -چین ہمہ موسمی سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی ہر آزمائش کا سامنا کیا اور مختلف شعبوں میں مسلسل ترقی کی منازل طے کیں۔ دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ پر نائب وزیراعظم /وزیر خارجہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ میں پاکستان اور چین کے عوام کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ 75 برس قبل ہماری دو قوموں نے باہمی احترام اور مشترکہ امنگوں پر مبنی ایک سفر کا آغاز کیا تھا، آج یہ سفر ایک منفرد سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری میں تبدیل ہو چکا ہے، ہمارا تعلق بین الاقوامی سفارتکاری میں ایک منفرد مثال کی حیثیت رکھتا ہے ،ایسا تعلق جو وقتی مفادات نہیں بلکہ فولادی اعتماد اور برادرانہ رشتے پر قائم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس اہم سنگِ میل پر ہم اُس تاریخ کا جشن منا رہے ہیں جس میں پاکستان اور چین نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا اور غیر متزلزل یکجہتی کے ساتھ ایک دوسرے کے بنیادی مفادات کا تحفظ کیا،میں پاکستان اور چین کی قیادت کے لئے بھی اپنی گہری ذاتی ستائش کا اظہار کرتا ہوں جنہوں نے پاک -چین دوستی کے مضبوط رشتے کو مزید مستحکم بنانے میں بصیرت افروز کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے اور سٹریٹجک روابط کو مضبوط بنانے میں قیادت کی انتھک کاوشیں نہایت قابلِ قدر رہی ہیں، گزشتہ 75 برسوں کے دوران پاک -چین سٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری نے وقت کی ہر آزمائش کا سامنا کیا اور مختلف شعبوں میں مسلسل ترقی کی منازل طے کیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین کا تعلق دونوں ممالک کے عوام کے دلوں میں گہری جڑیں رکھتا ہے، ہماری قیادت، کاروباری شخصیات، صنعتکار، ماہرینِ تعلیم، پیشہ ور افراد اور طلبہ نے گزشتہ 75 برسوں میں دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط بنانے میں پل کا کردار ادا کیا ہے، یہ تعلق نسلوں اور حکومتوں کی تبدیلی کے باوجود مسلسل مستحکم رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تاریخی موقع پر میں اُن چینی کمپنیوں، انجینئرز، کارکنوں اور ماہرین کی قیمتی خدمات کو بھی سراہتا ہوں
جو پاکستان میں لگن اور عزم کے ساتھ خدمات انجام دے رہے ہیں، بالخصوص سی پیک کے تحت پاکستان کی ترقی میں ان کی کاوشیں قابلِ تحسین ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) ہماری اقتصادی شراکت داری کا مرکزی ستون اور بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کا نمایاں منصوبہ ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے دوران اس نے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور توانائی کے شعبے میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں، مستقبل کی جانب بڑھتے ہوئے مجھے سی پیک کے دوسرے مرحلے پر ہماری مشترکہ توجہ حوصلہ افزا ءمحسوس ہوتی ہے جس میں صنعتی ترقی، زرعی جدیدکاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کو ترجیح دی جا رہی ہے تاکہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے اور مشترکہ خوشحالی کا خواب حقیقت بن سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک ایسے وقت میں جب دنیا پیچیدہ جغرافیائی و سیاسی چیلنجز سے دوچار ہے، پاکستان اور چین کے درمیان سٹریٹجک ہم آہنگی خطے اور دنیا کے لئے استحکام کا اہم ذریعہ ہے۔ انصاف، مساوات، کثیرالجہتی نظام، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام کے مشترکہ عزم پر مبنی بین الاقوامی فورمز میں ہمارا تعاون دوطرفہ تعلقات کا بنیادی ستون ہے۔
نہوں نے کہا کہ ہم مل کر انسانیت کے مشترکہ مستقبل کے وژن کے فروغ کے لئے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے، پاکستان اور چین کی پائیدار دوستی ماضی میں بھی خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور خوشحالی کا محور رہی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ انہوں نے کہا مستقبل کی جانب دیکھتے ہوئے مجھے مکمل یقین ہے کہ پاکستان اور چین کی ’’فولادی برادرانہ دوستی‘‘ مزید مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ آئیے ہم اس برادرانہ دوستی کو مزید آگے بڑھائیں اور ایک پُرامن، ترقی یافتہ اور خوشحال دنیا کے لئے پاک -چین تعلقات کو مزید مستحکم بنائیں۔








