وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے دیامر بھاشا ڈیم اور تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافے اور کمزور انتظامی نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے
وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کا اجلاس
اسلام آباد۔21مئی (اے پی پی):وفاقی وزیر منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات اور ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن احسن اقبال نے دیامر بھاشا ڈیم اور تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور منصوبوں میں تاخیر، لاگت میں غیر معمولی اضافے اور کمزور انتظامی نظام پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سنٹرل ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی (سی ڈی ڈبلیو پی) کا اجلاس وفاقی وزیر احسن اقبال کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں وزارت آبی وسائل سے متعلق مختلف منصوبوں کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں ’’دیامر بھاشا ڈیم پراجیکٹ ۔ ڈیم پارٹ ود ریفلیکشن آف ہیلی کاپٹر کاسٹ‘‘ کے نظرثانی شدہ منصوبے پر غور کیا گیا جس کی مالیت 485 ارب روپے سے زائد ہے اور اسے مزید غور کے لئے ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔ احسن اقبال نے اس موقع پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ منصوبے کا نظرثانی شدہ پی سی ون گزشتہ چھ برس سے جمع نہیں کرایا گیا جبکہ منصوبے کی لاگت 2018 میں منظور شدہ 480 ارب روپے سے کئی گنا بڑھ چکی ہے جو منصوبہ بندی اور انتظامی صلاحیت میں سنگین کمزوریوں کی نشاندہی کرتی ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ واپڈا کے نئے چیئرمین منصوبے کو مکمل پیشہ وارانہ انداز میں چلانے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے کہا کہ 2020 سے وہ پلاننگ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاسوں میں مسلسل اس منصوبے کی بڑھتی ہوئی لاگت پر تحفظات اٹھاتے رہے
تاہم اس کے باوجود واپڈا نے اب تک نظرثانی شدہ پی سی ون جمع نہیں کرایا۔سی ڈی ڈبلیو پی نے سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر ہیلی کاپٹر خریداری سے متعلق پی سی ون کی نظرثانی کی اجازت دے دی تاہم ہدایت کی گئی کہ ڈیم کے مرکزی حصے کا نظرثانی شدہ پی سی ون مزید تاخیر کے بغیر جمع کرایا جائے۔وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ آیا واپڈا میں بڑے منصوبوں کے لئے کوئی جامع، مربوط اور پیشہ وارانہ پراجیکٹ ڈیزائن اور مینجمنٹ سسٹم موجود بھی ہے یا نہیں۔ انہوں نے واپڈا کو اپنی منصوبہ جاتی صلاحیت بہتر بنانے کے لئے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔ اجلاس میں وزارت آبی وسائل کے ایک اور منصوبے ’’تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ہائیڈرو پاور پراجیکٹ‘‘ پر بھی غور کیا گیا جس کی لاگت 316 ارب روپے سے زائد ہے اور اسے بھی ایکنک کو بھجوا دیا گیا۔تربیلا ففتھ ایکسٹینشن منصوبے پر گفتگو کرتے ہوئے احسن اقبال نے منصوبے کے انتظامی ڈھانچے، شفافیت اور نگرانی کے نظام پر سنگین تحفظات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ عملے کی پیشہ وارانہ صلاحیت سوالیہ نشان بن چکی ہے جبکہ وزارت آبی وسائل نے بھی اپنی انکوائری رپورٹ میں مختلف خامیوں کی نشاندہی کی ہے۔
وفاقی وزیر نے سوال اٹھایا کہ مشکوک ریکارڈ رکھنے والی مقامی کنسلٹنٹ کمپنی کو کس طریقہ کار کے تحت منصوبے کے لئے منتخب کیا گیا جبکہ ابتدا میں ایک بین الاقوامی کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی گئی تھیں جسے بعد ازاں غیر شفاف انداز میں مقامی کمپنی سے تبدیل کر دیا گیا۔انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ انکوائری رپورٹ تفصیلی جائزے کے لئے وزارت کے ساتھ شیئر کی جائے۔احسن اقبال نے کہا کہ منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 82 ارب روپے تھا تاہم اس پر اب تک اخراجات 140 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں جو تشویشناک امر ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ منصوبے میں بدانتظامی، کمزور جانچ پڑتال، ٹھیکیداروں اور کنسلٹنٹس کی کارکردگی سے متعلق تمام مشاہدات ایکنک کے سامنے پیش کئے جائیں، اس مقصد کے لئے ممبر انفراسٹرکچر کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی جاری کی گئی جو اجلاس میں اٹھائے گئے نکات کا تفصیلی جائزہ لے کر جامع رپورٹ ایکنک کو پیش کرے گی۔وفاقی وزیر نے مزید ہدایت کی کہ مستقبل میں ایسے مسائل سے بچنے کے لئے مضبوط ادارہ جاتی نظام وضع کیا جائے اور واپڈا جیسے ادارے پیشہ وارانہ مہارت، شفافیت، احتساب اور مؤثر منصوبہ جاتی نظم و نسق کے اعلیٰ معیار کو یقینی بنائیں۔









