طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تربوز، خربوزہ یا میلن فیملی کے پھل کھانے سے ہیضہ یا اسہال کا کوئی تعلق نہیں، یہ صرف غلط فہمی پر مبنی مفروضے ہیں۔موسم گرما کے پھلوں کے استعمال سے معدہ کے مسائل کے حوالہ سے معاشرہ میں موجود مفروضوں کے حوالہ سے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی تربوز، خربوزہ اور آم جیسے رسیلے …
میلن فیملی کے پھل کھانے سے ہیضہ یا اسہال کا کوئی تعلق نہیں، ماہرین صحت و غذا

مزید خبریں
اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):طبی ماہرین نے کہا ہے کہ تربوز، خربوزہ یا میلن فیملی کے پھل کھانے سے ہیضہ یا اسہال کا کوئی تعلق نہیں، یہ صرف غلط فہمی پر مبنی مفروضے ہیں۔موسم گرما کے پھلوں کے استعمال سے معدہ کے مسائل کے حوالہ سے معاشرہ میں موجود مفروضوں کے حوالہ سے ماہرین صحت نے کہا ہے کہ پاکستان میں موسم گرما کے آغاز کے ساتھ ہی تربوز، خربوزہ اور آم جیسے رسیلے اور خوش ذائقہ پھلوں سے مارکیٹیں بھر جاتی ہیں جبکہ چند ہفتوں کے لیے بازار میں دستیاب تربوز کو گرمی کا توڑبھی قرار دیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی کا توڑ سمجھے جانے والے، وٹامنز، پروٹین اور فائبر سے بھرپور پھلوں کو وقت، بے وقت کھانے سے بعض اوقات طبی مسائل جنم لے سکتے ہیں ۔ شفا انٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد کے ماہر امراض ہاضمہ ڈاکٹر معاذ بن بادشاہ اور ماہر غذائیت ڈاکٹر زینب غیور نے تربوز، خربوزہ اور آم کھانے اور اس کے نتیجہ میں معدہ یا نظام ہاضمہ کے حوالہ سے معاشرہ میں پائے جانے خدشات کے بارے میں کہا ہے کہ پھلوں کے باعث ہمارا سٹول (پاخانہ) نرم ہو سکتا ہے مگر ڈائیریا نہیں ہوتا۔ تربوز اور خربوزے کو خالی پیٹ یا بھرے پیٹ کھانے کے باعث ہیضہ یا اسہال جیسے امراض ہو سکتے ہیں؟ ،کے بارے میں ڈاکٹر معاذ بن بادشاہ نے کہا کہ ایس اکچھ بھی نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تربوز، خربوزہ یا میلن فیملی کے پھل کھانے سے ہیضہ یا اسہال کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف غلط فہمی پر مبنی مفروضے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سائنسی طور پر ایسے شواہد نہیں ملتے جن سے یہ ثابت ہو سکے تاہم موسمِ گرما کے اِن پھلوں میں فائبر اور پانی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے انہیں کھانے سے ہمارا سٹول (پاخانہ) نرم ہو سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بعض لوگوں کو محسوس ہو سکتا ہے کہ وہ اسہال جیسی کیفیت میں مبتلا ہو گئے ہیں لیکن دراصل وہ سافٹ سٹول ہوتا ہے۔ڈاکٹر معاذ نے واضح کیا کہ اگر ہم کوئی بھی پھل اچھی طرح دھوئے بغیر یا گندے ہاتھوں سے کھائیں تو اس سے پیٹ کی بیماریاں بشمول ہیضہ وغیرہ ہو سکتا ہے۔ماہر غذائیت زینب غیور نے اسی سوال کے جواب میں کہا کہ اگر آپ کے ہاضمے کا نظام پہلے ہی کسی مسئلے کا شکار ہو تو ایسی صورت میں ہائی فوڈ میپ میں شامل پھل (جن میں تربوز بھی شامل ہے) مریض کی مشکل بڑھا سکتے ہیں۔ یعنی اگر پہلے سے ڈائریا یا بدہضمی ہو تو اِن پھلوں کو کھانے کے باعث پہلے سے موجود تکلیف بڑھ سکتی ہے۔واضح رہے کہ ماہرین غذائیت پھل، سبزیوں اور کھانے کی دیگر اشیا کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔ ہائی فوڈ میپ سے مراد ایسی غذائیں ہیں جن میں شامل کاربوہائڈریٹس کی اقسام ہضم کرنے میں وقت لگ سکتا ہے جبکہ لو فوڈ میپ میں شامل کابوہائیڈریٹس انسانی جسم میں باآسانی ہضم ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر زینب غیور نے مزید کہا کہ خربوزہ، تربوز اور اسی قبیل کے پھلوں میں کچھ اجزا ایسے ہوتے ہیں جن کو ہائی فوڈ میپس میں رکھا جاتا ہے اور وہ ہضم ہونے میں کچھ وقت لیتے ہیں تاہم سب کے لیے ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔انھوں نے مشورہ دیا کہ تربوز بھی ایسے ہی پھلوں میں شمار ہوتا ہے جس کو ہضم ہونے میں کچھ وقت لگ سکتا ہے ، ایسے پھلوں کو ایک وقت میں بہت زیادہ مقدار میں کھانا مناسب نہیں۔ اگر ہم مناسب مقدار میں پھلوں کا استعمال کریں تو یہ مفید ہیں اور اس سے نظام انہضام میں کوئی مسئلہ بھی نہیں ہوتا۔ خربوزہ کھانے کے بعد پانی پینے سے اسہال ( ڈائریا) ہونے کے خدشہ کے حوالہ سے ڈاکٹر زینب غیور نے کہا کہ تربوز، خربوزہ یا کسی بھی دوسرے پھل کو کھانے کے فوراً بعد پانی پینا تجویز نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے ہمارے معدے میں موجود پی ایچ (PH) کا توازن بگڑ سکتا ہے۔ زیادہ بہتر ہے کہ کوئی بھی پھل کھانے کے فورا بعد یا کھانا کھانے کے فوراً بعد نہیں بلکہ تھوڑے وقفے سے پانی پیا جائے۔پھل کھانے کے مناسب وقت کے بارے مین ماہرین صحت نے ہدایت کی ہے کہ خربوزہ یا تربوز کے کھانے سے کسی بیماری کا کوئی براہ راست تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پھل اور سبزیاں وٹامن، فائبر اور توانائی برقرار رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں اور ان کے منفرد ذائقے گرمیوں میں سب کے پسندیدہ ہوتے ہیں تاہم ان کا متوازن اور مناسب وقت میں استعمال صحت کے لیے بہترین ہے ۔ پھل دن کے وقت کھانے چاہئیں تاہم ناشتے یا کھانے کے فوراً بعد نہیں بلکہ کچھ دیر بعد یا دوپہر کے کھانے کے بعد ان کا استعمال انسانی صحت کیلئے مفید ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرمی اور لو کے موسم میں تربوز، خربوزہ یا دیگر پھل دن کے وقت کھائیں تو زیادہ بہتر ہے۔ گرمیوں میں دن کے اوقات میں جسم میں پانی اور الیکٹرولائٹس کی کمی ہو سکتی ہے تو اس صورتحال میں دن میں رس دار پھل لینا بہتر ہے اور اس سے جسم کو اچھی توانائی حاصل ہوتی ہے ۔








