آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس اور متحدہ علماء کونسل کے درمیان انتخابی اتحاد کا اعلان

صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ متحدہ علماء کونسل اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے پا گیا ہے، آزاد کشمیر میں انتخابات کی سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے، مسلم کانفرنس کی کوشش تھی کہ آئندہ انتخابات زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ لڑے جائیں۔

اسلام آباد۔23مئی (اے پی پی):صدر مسلم کانفرنس و سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار عتیق احمد خان نے کہا ہے کہ متحدہ علماء کونسل اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے پا گیا ہے، آزاد کشمیر میں انتخابات کی سیاسی گہما گہمی شروع ہو چکی ہے، مسلم کانفرنس کی کوشش تھی کہ آئندہ انتخابات زیادہ بہتر تیاری کے ساتھ لڑے جائیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتہ کو یہاں نیشنل پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کے دوران کیا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ کچھ عرصے سے مسلم کانفرنس مشکلات کا شکار رہی، انتخابی اتحاد کی ضرورت محسوس کی گئی۔انہوں نے کہا کہ متحدہ علماء کونسل اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے پا گیا ہے، جموں، وادی اور مہاجرین کے حلقوں میں مل کر الیکشن لڑیں گے۔ سردار عتیق احمد خان نے مزید کہا کہ آزاد کشمیر کے سیاسی و پارلیمانی مستقبل کے نقشے پر غور کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ تحریک پاکستان میں علماء و مشائخ نے نمایاں کردار ادا کیا۔

سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ آزاد کشمیر کا سیاسی اور تہذیبی تشخص صدیوں پر محیط تاریخ رکھتا ہے، آزاد کشمیر مذہبی رواداری اور ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوتؐ کے معاملے پر آزاد کشمیر اسمبلی نے 1973 میں تاریخی اقدام اٹھایا،ختم نبوتؐ کے حوالے سے آزاد کشمیر نے عالم اسلام میں اہم اور تاریخی کردار ادا کیا۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ علماء و مشائخ نے ختم نبوتؐ کے تحفظ کے لیے ہمیشہ صفِ اول کا کردار ادا کی۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں جب بھی اسٹیبلشمنٹ نے انتخابات کرائے، کبھی دھاندلی نہیں ہوئی۔ سردار عتیق احمد خان نے کہا کہ مہاجرین تحریک آزادی کشمیر کا اہم سیاسی اور پارلیمانی حصہ ہیں، مہاجرین کے ووٹ کے حق کو ختم کرنے کی بات ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناحؒ نے مہاجرین کشمیر کی نمائندگی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی تھی، مہاجرین کے حلقے تحریک آزادی کشمیر کی سیاسی آواز ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سید علی گیلانی، یٰسین ملک اور دیگر حریت رہنماؤں کی قربانیوں کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔اس موقع پرمتحدہ علماء و مشائخ کونسل کے چیئرمین مفتی محمد وسیم رضا نے کہا کہ آل انڈیا سنی بنارس کانفرنس تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہے، پانچ ہزار سے زائد علماء و مشائخ نے تحریک پاکستان میں بھرپور کردار ادا کیا،علماء و مشائخ نے پاکستان اور کشمیر کے نظریاتی تشخص کے لیے ہمیشہ جدوجہد کی۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت قرارداد اور مذہبی اداروں کے قیام میں مسلم کانفرنس کا اہم کردار رہا۔ مفتی وسیم رضا نے کہا کہ آزاد کشمیر بھر اور مہاجرین مقیم پاکستان کے حلقوں میں مشترکہ انتخابی مہم چلائیں گے،اہل سنت و جماعت کی مختلف جماعتیں اور خانقاہیں انتخابی اتحاد کا حصہ بن رہی ہیں۔

مسلم کانفرنس کے ساتھ انتخابی اتحاد کے حوالہ سے بھرپور عزم کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ناموسِ رسالتؐ، اسلامی تشخص اور اہل سنت والجماعت کے مراکز کے تحفظ کے لیے بھرپور کردار ادا کریں گے۔ مفتی محمد وسیم رضا نے مزید کہا کہ مساجد، مدارس، خانقاہوں اور مزارات کے تحفظ کے لیے متحد ہو کر آگے بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور آزاد کشمیر میں اتحاد، برداشت اور جمہوری اقدار کے فروغ کی ضرورت ہے،علماء و مشائخ آئندہ انتخابات میں مسلم کانفرنس کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے،مسلم کانفرنس اور علماء کونسل آئندہ الیکشن میں مشترکہ حکمت عملی کے تحت میدان میں اتریں گے۔