لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں اور جارحیت کی مذمت کی ہے۔العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے خاص طور پر شقیف قلعے کے ارد گرد کیے گئے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت خطرناک پیش رفت ہے جو خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے اور فریقین کے درمیان فریم ورک معاہدے پر عمل …
لبنان کے صدر کی جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں اور جارحیت کی مذمت

مزید خبریں
بیروت۔1اگست (اے پی پی):لبنان کے صدر جوزف عون نے جنوبی لبنان میں جاری اسرائیلی خلاف ورزیوں اور جارحیت کی مذمت کی ہے۔العربیہ اردو کے مطابق انہوں نے خاص طور پر شقیف قلعے کے ارد گرد کیے گئے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مخالفت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک نہایت خطرناک پیش رفت ہے جو خطے کے استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے اور فریقین کے درمیان فریم ورک معاہدے پر عمل درآمد کی جاری سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔
اپنے جاری بیان میں صدر جوزف عون نے کہا کہ ان دھماکوں سے انفراسٹرکچر اور یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل تاریخی مقامات کو نقصان پہنچا ہے جس سے جنوبی لبنان کے کئی دیہات میں شدید تباہی ہوئی ہے اور شہریوں کا امن و سلامتی متاثر ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ جیو فزکس کے قومی مرکز کے مطابق شقیف قلعے کے علاقے میں ہونے والے ان دھماکوں سے 3.8 شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جو موجودہ معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہیں۔ یہ کارروائیاں اس عمل کے لیے بھی خطرہ ہیں جو فریم ورک معاہدے کے تحت شروع کیا گیا تھا اور لبنان جس کے نکات پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے۔
لبنانی صدر نے موقف اپنایا کہ ان دھماکوں کا وقت۔ جو سہ فریقہ فریم ورک کی عمل داری پر گفتگو مکمل کرنے کے لیے روم میں متوقع اجلاس سے ٹھیک پہلے ہوا۔ ایک منفی پیغام دیتا ہے اور جنوب میں استحکام قائم کرنے کی بین الاقوامی کوششوں کو سبوتاژ کرتا ہے۔ انہوں نے ضامن ممالک اور عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی تاکہ ان خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے جو سفارتی پیش رفت کے مواقع کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔







