سی سی ٹی وی فوٹیج پر سوالات، سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی
سی سی ٹی وی فوٹیج پر سوالات، سپریم کورٹ نے منشیات برآمدگی کیس میں ملزمہ نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کر لی

مزید خبریں
اسلام آباد۔2جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے لاہور کی رہائشی نازیہ مختار خواجہ کے خلاف منشیات برآمدگی کے مقدمے میں پانچ لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرتے ہوئے ملزمہ کے گھر کی سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا۔جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس صلاح الدین پنھور پر مشتمل تین رکنی بنچ نے منگل کو کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ملزمہ کے وکیل احسن بھون نے اے این ایف کی کارروائی کی سی سی ٹی وی فوٹیج عدالت میں چلائی اور مؤقف اختیار کیا کہ فوٹیج سے واضح ہوتا ہے کہ ایک اے این ایف اہلکار منشیات اپنے ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ خود منشیات گھر میں رکھ کر ملزمہ کے خلاف جھوٹا مقدمہ بنایا گیا۔وکیل نے عدالت کو بتایا کہ سی سی ٹی وی فوٹیج میں نظر آنے والا اہلکار کمرہ عدالت میں موجود ہے تاہم متعلقہ اہلکار نے فوٹیج میں اپنی موجودگی کی تردید کر دی۔
احسن بھون نے مزید کہا کہ گاڑی کی ریکوری کا ریکارڈ بھی تبدیل کیا گیا ہے۔سماعت کے دوران جسٹس اشتیاق ابراہیم نے ریمارکس دیئے کہ فوٹیج میں اے این ایف کے اسلحہ بردار اہلکار تشدد کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ انہوں نے اے این ایف حکام پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں اے این ایف کے بیانات کی بنیاد پر لوگوں کو سزائیں سناتی ہیں، اس لئے کمرہ عدالت میں جھوٹ نہیں بولا جانا چاہئے اور خدا کا خوف کرنا چاہئے۔اے این ایف کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ پیش کی گئی فوٹیج کسی اور گھر میں کی جانے والی کارروائی کی ہے اور اس کا زیر سماعت مقدمے سے تعلق نہیں۔اس موقع پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ اگر اے این ایف کے دس اہلکار کارروائی میں شریک تھے تو دو لڑکیاں کیسے فرار ہو گئیں۔ انہوں نے ریمارکس دیئے کہ اتنے مضبوط اہلکار لڑکیوں کو تو نہ پکڑ سکے لیکن گاڑی پکڑ لی گئی۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے اے این ایف کی کارکردگی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بعض مقدمات میں ملزمان تحویل میں ہوتے ہوئے بھی مار دیئے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک واقعہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک کیس میں ملزم کی ہتھکڑیوں سمیت تصویر موجود تھی لیکن اگلے روز اسے ہلاک کر دیا گیا۔سماعت کے دوران جسٹس ہاشم کاکڑ نے ایک اے این ایف اہلکار سے مکالمہ کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا اس نے کبھی چرس پی ہے۔ اہلکار کے نفی میں جواب دینے پر فاضل جج نے ریمارکس دیئے کہ شاید اسی وجہ سے اسے احساس نہیں ہے جس پر عدالت میں قہقہے گونج اٹھے۔بعد ازاں سپریم کورٹ نے نازیہ مختار خواجہ کی ضمانت منظور کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج کا فرانزک کرانے کا حکم دے دیا اور مزید کارروائی ملتوی کر دی۔








