لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو اس کے طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، اگر حق مہر میں زمین مقرر کی گئی ہو تو اس کی تشریح نکاح نامے کی شرائط اور فریقین کی نیت کے مطابق کی جائے گی۔
حق مہر میں طے شدہ زمین سے خاتون کو محروم نہیں کیا جا سکتا،لاہور ہائیکورٹ
لاہور۔5جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ نکاح نامے پر دستخط کے بعد بیوی کو اس کے طے شدہ حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا ، اگر حق مہر میں زمین مقرر کی گئی ہو تو اس کی تشریح نکاح نامے کی شرائط اور فریقین کی نیت کے مطابق کی جائے گی۔ جسٹس سلطان تنویر نے سمیرا بی بی کی درخواست منظور کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا وہ فیصلہ کالعدم قرار دے دیا جس میں حق مہر کے طور پر مقرر دو ایکڑ زمین کے بدلے16 لاکھ روپے ادا کرنے کو درست قرار دیا گیا تھا۔ عدالت نے مقدمہ دوبارہ فیصلے کے لیے متعلقہ ٹرائل کورٹ کو واپس بھجوا دیا۔ اس حوالے سے تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔ فیصلے کے مطابق فریقین کے درمیان 2015 میں نکاح ہوا اور نکاح نامے میں دو ایکڑ زمین بطور حق مہر مقرر کی گئی ۔ بعد ازاں شوہر نے زمین منتقل کرنے کے بجائے2015 کے نرخ کے مطابق16 لاکھ روپے ادا کر دیے جسے ٹرائل کورٹ نے درست قرار دیا ۔ ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ ریکارڈ کے مطابق حق مہر کی صورت میں دو ایکڑ زمین طے کی گئی تھی، اگر زمین کے بدلے رقم ادا کی جانی ہو تو اس کا تعین موجودہ مارکیٹ ویلیو کے مطابق ہونا چاہیے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ نکاح نامہ ایک سول معاہدہ ہے اور اس کی شرائط کو فریقین کی اصل نیت کے مطابق سمجھا جانا چاہیے۔ عدالت نے قرار دیا کہ شوہر کسی ابہام یا تکنیکی نکتے کا فائدہ اٹھا کر بیوی کے قانونی حقوق سلب نہیں کر سکتا۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ٹرائل کورٹ حق مہر سے متعلق شق کی درست تشریح کرنے میں ناکام رہی لہذا معاملہ دوبارہ فیصلے کے لیے واپس بھجوایا جاتا ہے۔









