پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے فعال ہونے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے صوبے کے36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو خصوصی ٹربیونلز کے جج مقرر کر دیا ہے ، قانون کے نفاذ سے 575 مقدمات میں جاری حکم امتناعی بھی ختم ہو گئے ہیں
پنجاب پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کا نفاذ، صوبے بھر میں ٹربیونلز قائم
لاہور۔6جون (اے پی پی):پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ کے فعال ہونے کے بعد چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے صوبے کے36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو خصوصی ٹربیونلز کے جج مقرر کر دیا ہے ، قانون کے نفاذ سے 575 مقدمات میں جاری حکم امتناعی بھی ختم ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نے ٹربیونلز کےلئے نامزد ایڈیشنل سیشن ججز کی فہرست پنجاب حکومت کو ارسال کر دی ہے،قانون کے تحت یہ ٹربیونلز زمینوں پر غیر قانونی قبضے کے مقدمات کی سماعت کریں گے اور قبضہ ثابت ہونے پر تین سے دس سال تک قید کی سزا سنانے کے مجاز ہوں گے۔لاہور میں ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل،قصور میں محمد اشفاق،راولپنڈی میں چوہدری قاسم جاوید،فیصل آباد میں عمران شفیع خان،ملتان میں غزالہ یاسمین اور گوجرانوالہ میں محمد فرحان نبی سمیت36 اضلاع میں ایڈیشنل سیشن ججز کو بطور ٹربیونل نامزد کیا گیا ہے۔حکام کے مطابق ٹربیونلز کے قیام کا مقصد اراضی پر غیر قانونی قبضوں کے مقدمات کا فوری اور موثر فیصلہ یقینی بنانا ہے۔








