مشترکہ مجرمانہ مقصد ثابت نہ ہونے پر قتل کی سزا برقرار نہیں رہ سکتی، سپریم کورٹ

سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 149 کے تحت قتل اور دیگر سنگین جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ غیر قانونی اجتماع کا حصہ تھا اور اس نے دیگر ملزمان کے ساتھ مشترکہ مجرمانہ مقصد اختیار کیا تھا

اسلام آباد۔6جون (اے پی پی):سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ کسی ملزم کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 149 کے تحت قتل اور دیگر سنگین جرائم کا ذمہ دار ٹھہرانے کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری ہے کہ وہ غیر قانونی اجتماع کا حصہ تھا اور اس نے دیگر ملزمان کے ساتھ مشترکہ مجرمانہ مقصد اختیار کیا تھا، اگر کسی ملزم کی شمولیت صرف بعد کے مرحلے میں ثابت ہو تو اسے پہلے مرحلے میں ہونے والے قتل اور زخمی کرنے کے واقعات کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔رپورٹنگ کے لیے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے کے مطابق جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ، جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے راجن پور کے کچے کے علاقے میں پولیس پارٹی پر حملے، چھ اہلکاروں کی شہادت اور متعدد اہلکاروں کو یرغمال بنانے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے یہ اہم قانونی اصول وضع کیا۔عدالت نے قرار دیا کہ غلام رسول عرف چھوٹو، محمد خالد عرف خالدی اور اسحاق کے خلاف زخمی عینی گواہوں، طبی شواہد، فرانزک رپورٹس اور اسلحہ برآمدگیوں کی بنیاد پر قتل، دہشت گردی اور دیگر جرائم کے الزامات بلا شبہ ثابت ہوئے لہٰذا ان کی اپیلیں مسترد کرتے ہوئے سزائیں برقرار رکھی جاتی ہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ استغاثہ یہ ثابت کرنے میں کامیاب رہا کہ مذکورہ ملزمان نے پولیس پارٹی پر مسلح حملے میں براہ راست حصہ لیا جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ بعد ازاں پولیس اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا گیا۔تاہم عدالت نے قرار دیا کہ بہرام، بشیر، مجیب الرحمٰن، حسین بخش، پیارا، اکرم، دین محمد، شیر خان، قاسم، سماد اور نادر کے خلاف ریکارڈ پر موجود شواہد صرف یرغمال بنانے اور اغوا کے دوسرے مرحلے میں شرکت ثابت کرتے ہیں۔ استغاثہ یہ ثابت نہیں کر سکا کہ یہ ملزمان پہلے مرحلے میں حملہ آور غیر قانونی اجتماع کا حصہ تھے یا انہوں نے قتل اور زخمی کرنے کے جرائم کے لیے مشترکہ مقصد اختیار کیا تھا۔اسی بنیاد پر سپریم کورٹ نے ان ملزمان کو قتل، بعض زخمی کرنے کے جرائم اور ایکسپلوسیو سبسٹینسز ایکٹ کے تحت دی گئی سزاؤں سے بری کرتے ہوئے قرار دیا کہ ان کے خلاف صرف وہی سزائیں برقرار رہیں گی جو اغوا، یرغمال بنانے، سرکاری فرائض میں مداخلت اور ریاست کے خلاف جرائم سے متعلق دفعات کے تحت ثابت ہوتی ہیں۔عدالت نے ان ملزمان کی دفعہ 121 تعزیراتِ پاکستان کے تحت عمر قید کی سزا کم کرکے 14 سال قید کر دی جبکہ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7(c) کے تحت سزا کو تبدیل کرکے دفعہ 7(b) کے تحت 10 سال قید مقرر کر دی۔