فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے انکشاف کیا ہے کہ مئی میں اسرائیلی یہودی آبادکاروں کے گروہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں 23 مرتبہ داخل ہوئے
مئی کے دوران یہودی آبادکاروں کے گروہ 23 بار مسجد اقصیٰ میں زبرستی داخل ہوئے، فلسطینی وزارت اوقاف

مزید خبریں
مقبوضہ بیت المقدس۔8جون (اے پی پی):فلسطینی وزارت اوقاف و مذہبی امور نے انکشاف کیا ہے کہ مئی میں اسرائیلی یہودی آبادکاروں کے گروہ مسجد اقصیٰ کے احاطے میں 23 مرتبہ داخل ہوئے ۔ اردو نیوز کے مطابق وزارت نے بتایا ہے کہ ہزاروں اسرائیلی آبادکار اسرائیلی حکام کے زیرِ کنٹرول باب المغاربہ (مراکش گیٹ) کے ذریعے مسجد اقصیٰ کے احاطے میں داخل ہوئے جبکہ اسی دوران فلسطینی نمازیوں کی آمدورفت اور عبادت پر مختلف پابندیاں عائد کی گئیں۔ فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 14 مئی کو سب سے بڑا گروہ مسجد اقصیٰ میں داخل ہوا، جس میں تقریباً 1,400 افراد شامل تھے۔ اس گروہ میں اسرائیلی وزرا،پارلیمنٹ کے اراکین اور دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سرگرم کارکن بھی شامل تھے۔ فلسطینی وزارت اوقاف نے خبردار کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ان رسومات میں دعائیں، سجدے، مذہبی نغمے، رقص اور اسرائیلی پرچم لہرانا شامل ہے۔ مسجد اقصیٰ، جو اسلام کا تیسرا مقدس ترین مقام ہے، گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدگی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے کے بعد سے یہاں آبادکاروں کے داخلوں اور مسلم نمازیوں پر عائد پابندیوں کے باعث متعدد بار تنازعات اور جھڑپیں ہو چکی ہیں۔ مسجد اقصیٰ کے انتظامی امور اردن کی وزارت اوقاف کے سپرد ہیں، جسے اس مقدس مقام کے انتظام اور رسائی کے معاملات میں قانونی اختیار حاصل ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی آبادکار، جو اس مقام کو’’ٹیمپل ماؤنٹ‘‘ کے نام سے موسوم کرتے ہیں، یہاں مخصوص اوقات میں یہودی عبادات کے انعقاد کے خواہاں ہیں۔ اسرائیل کے کئی سینئر قانون ساز، جن میں انتہائی دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے قومی سلامتی کے وزیر اتمر بن گویر بھی شامل ہیں، ان مطالبات کی کھل کر حمایت کر چکے ہیں۔








