لاہور ہائیکورٹ نے منشیات نیٹ ورک کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں دو خواتین ملزمہ بہنوں رمشا اور ماریہ کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
منشیات نیٹ ورک منی لانڈرنگ کیس ، دو بہنوں کے جسمانی ریمانڈ کی درخواست پر جواب طلب

مزید خبریں
لاہور۔8جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے منشیات نیٹ ورک کے ذریعے منی لانڈرنگ کیس میں دو خواتین ملزمہ بہنوں رمشا اور ماریہ کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔جسٹس طارق محمود باجوہ نے انسدادِ منشیات فورس (اے این ایف) کی درخواست پر سماعت کی۔ اے این ایف کے اسپیشل پراسیکیوٹر عاصم صدیقی نے عدالت کے روبرو دلائل پیش کیے۔اے این ایف کے مطابق ملزمہ رمشا اور ماریہ کے خلاف منشیات سے حاصل ہونے والی رقم سے جائیدادیں بنانے کے الزام میں منی لانڈرنگ کا مقدمہ درج ہے۔
پراسیکیوشن کا موقف تھا کہ ملزم خواتین کے پاس تقریبا 40 کروڑ روپے مالیت کے سات مکانات ہیں جبکہ ان کے بینک اکاونٹس میں 75 کروڑ روپے کی مالی لین دین ریکارڈ پر موجود ہے، جس کی وہ کوئی تسلی بخش وضاحت پیش نہیں کر سکیں۔اے این ایف کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ملزم بہنوں سے پانچ کلوگرام آئس، 120 گرام کوکین اور دیگر منشیات بھی برآمد ہوئی تھیں۔ لاہور ہائیکورٹ 21 مئی 2026 کو دونوں ملزم بہنوں کی عبوری ضمانت خارج کر چکی ہے۔اے این ایف نے عدالت سے استدعا کی کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے 22 مئی 2026 اور ایڈیشنل سیشن جج کے فیصلوں کو کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزمہ خواتین کو جسمانی ریمانڈ پر اے این ایف کی تحویل میں دینے کا حکم جاری کیا جائے۔عدالت نے ابتدائی سماعت کے بعد فریقین کو نوٹس جاری کردئیے ۔








