لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی طالبہ کی بازیابی کی درخواست پر دفتری اعتراض ختم کرتے ہوئے کیس سماعت کے لیے کل بروز منگل مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر ابتدائی سماعت کی
لاہور ہائیکورٹ کا مسیحی طالبہ کی بازیابی کی درخواست پر کیس سماعت کے لیے مقرر کرنے کا حکم

مزید خبریں
لاہور۔8جون (اے پی پی):لاہور ہائیکورٹ نے مسیحی طالبہ کی بازیابی کی درخواست پر دفتری اعتراض ختم کرتے ہوئے کیس سماعت کے لیے کل بروز منگل مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے درخواست پر ابتدائی سماعت کی۔سماعت کے دوران درخواست گزار کی وکیل مریم عائشہ شیرازی ایڈووکیٹ پیش ہوئیں۔ رجسٹرار آفس کی جانب سے درخواست پر یہ اعتراض عائد کیا گیا تھا کہ معاملہ بورے والا سے متعلق ہونے کے باعث درخواست ملتان بینچ میں دائر کی جانی چاہیے۔درخواست گزار کی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ لڑکی کے والدین فیصل آباد کے رہائشی ہیں جبکہ متاثرہ طالبہ بھی فیصل آباد کے اسلامیہ کالج عیدگاہ روڈ میں زیر تعلیم ہے، اس لیے درخواست لاہور بینچ میں قابل سماعت ہے۔
وکیل نے بتایا کہ لڑکی نے بورے والا میں جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو بیان دیا تھا جس کی بنیاد پر دفتری اعتراض لگایا گیا۔درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار کی بیٹی کو 7 مئی کو گھر واپسی کے دوران اغوا کر لیا گیا اور وہ اس وقت بورے والا کی رہائشی منیرہ بی بی کے پاس موجود ہے۔ درخواست گزار کے مطابق منیرہ بی بی ایک مسلمان خاتون ہیں اور ان کا خاندان سے کوئی تعلق نہیں۔درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ طالبہ کو بازیاب کرا کے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ عدالت نے دفتری اعتراض ختم کرتے ہوئے درخواست کو باقاعدہ سماعت کے لیے کل بروز منگل مقرر کرنے کا حکم دے دیا۔








