سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام کو مؤثر بنانے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلئے ’’مقدمہ بازی سے پہلے ثالثی‘‘ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلئے مقدمہ بازی سے پہلے ثالثی ناگزیر ہے ،جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب

مزید خبریں
اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):سپریم کورٹ کے جج جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان میں عدالتی نظام کو مؤثر بنانے اور عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ کم کرنے کیلئے ’’مقدمہ بازی سے پہلے ثالثی‘‘ کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے
جبکہ وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا ہے کہ ملک بھر میں زیر التوا ء 22 لاکھ 60 ہزار سے زائد مقدمات انصاف کے نظام کیلئے ایک سنگین چیلنج بن چکے ہیں۔اسلام آباد میں متبادل تنازعاتی حل (اے ڈی آر) کے نظام سے متعلق ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کے قانونی کلچر میں بنیادی تبدیلی لانے کی ضرورت ہے اور تنازعات کے حل کیلئے عدالتوں سے رجوع کرنے کے بجائے ثالثی اور مصالحت کو ترجیح دی جانی چاہئے۔ انہوں نے ’’پاکستان کے نظامِ انصاف کیلئے عدالت سے پہلے مصالحت‘‘ کا تصور پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس طریقہ کار سے عدالتی بوجھ میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔جسٹس اورنگزیب نے کہا کہ ترکیہ کے کامیاب ثالثی ماڈل سے پاکستان بھی استفادہ کر سکتا ہے کیونکہ ملک میں اس مقصد کیلئے بنیادی ادارہ جاتی ڈھانچہ پہلے سے موجود ہے۔ انہوں نے قومی صنعتی تعلقات کمیشن (این آئی آر سی) میں موجود بعض انتظامی اور طریقہ کار کی خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ ایسے بہت سے تنازعات جو ابتدائی مرحلے میں حل ہو سکتے ہیں، غیر ضروری طور پر عدالتوں تک پہنچ جاتے ہیں۔وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے کہا کہ زیر التوا ء مقدمات کا بوجھ صرف قانونی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی بحران بھی ہے جو شہریوں کے حقوق، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ثالثی کے نظام کو مضبوط بنانے کیلئے پرعزم ہے اور سنگاپور کنونشن برائے ثالثی کو ملکی قانون کا حصہ بنانے کیلئے قانون سازی پر کام جاری ہے۔تقریب میں سپریم کورٹ کے سابق جج اور لیگل ایڈ سوسائٹی کے چیئرمین جسٹس (ر) عارف حسین خلجی نے کہا کہ ثالثی تنازعات کے حل کا مؤثر اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لیگل ایڈ سوسائٹی روزانہ دو سے تین مقدمات نمٹاتی ہے اور اس کی کامیابی کی شرح تقریباً 74 فیصد ہے۔ریسرچ سوسائٹی آف انٹرنیشنل لاء (آر ایس آئی ایل) اور لیگل ایڈ سوسائٹی (ایل اے ایس) کی جانب سے پیش کردہ رپورٹ میں متبادل تنازعاتی حل ایکٹ 2017 کے مؤثر نفاذ، قانونی اصلاحات اور ادارہ جاتی اقدامات کی سفارش کی گئی ہے تاکہ محنت کشوں اور تجارتی تنازعات کو عدالتوں میں جانے سے قبل ثالثی کے ذریعے حل کیا جا سکے۔آر ایس آئی ایل کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جمال عزیز نے کہا کہ موجودہ نظام میں قانونی اور ادارہ جاتی خامیوں کے باعث متبادل تنازعاتی حل کا نظام اپنی مکمل استعداد کے مطابق نتائج نہیں دے رہا۔ انہوں نے مرحلہ وار اصلاحات تجویز کرتے ہوئے کہا کہ ابتدا ءمیں لیبر تنازعات، بعد ازاں اجرت سے متعلق دعوئوں اور پھر 50 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے تجارتی تنازعات کو ثالثی کے دائرہ کار میں لایا جا سکتا ہے۔وفاقی سیکرٹری قانون و انصاف راجہ نعیم اکبر نے اس موقع پر حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ متبادل تنازعاتی حل کے نظام کو مزید مؤثر اور فعال بنایا جائے گا جبکہ قومی صنعتی تعلقات کمیشن کی سینئر ڈپٹی رجسٹرار صالحہ بشیر نے کہا کہ ثالثی محنت کشوں اور آجروں کیلئے تنازعات کے حل کا تیز، مؤثر اور کم تصادم پر مبنی راستہ فراہم کر سکتی ہے۔تقریب کے اختتام پر آر ایس آئی ایل کے صدر احمر بلال صوفی نے کہا کہ ثالثی صرف قانونی اصلاحات نہیں بلکہ مکالمے، افہام و تفہیم اور تنازعات کے بروقت حل کے فروغ کا ذریعہ بھی ہے۔







