حکومت نرسنگ کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے اور عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے، وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نرسنگ کا شعبہ صحت کے نظام میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ،پاکستان میں اس شعبے کی بہتری کے لئے جامع اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں،حکومت نرسنگ کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے

اسلام آباد۔8جون (اے پی پی):وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ نرسنگ کا شعبہ صحت کے نظام میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے ،پاکستان میں اس شعبے کی بہتری کے لئے جامع اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں،حکومت نرسنگ کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، افرادی قوت میں اضافہ کرنے اور عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔ پاکستان نرسنگ اینڈ مڈوائفری کونسل (پی این اینڈ ایم سی ) میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کو تقریباً 9لاکھ نرسز کی ضرورت ہے جبکہ دنیا بھر میں 25لاکھ نرسز کی کمی کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں نرسز کی تعداد صرف چھ ہزار کے قریب ہے جبکہ پڑوسی ملک میں یہ تعداد چھ لاکھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر نرسنگ کے شعبے کو درست انداز میں منظم کیا جائے تو پاکستان نہ صرف اپنی ضروریات پوری کر سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی افرادی قوت فراہم کر سکتا ہے۔وزیر صحت نے کہا کہ نرسنگ کونسل میں گزشتہ کئی برسوں سے انتظامی اور قانونی مسائل موجود تھے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ کونسل کے متعدد عہدیداروں اور ارکان کے درمیان مقدمات زیر سماعت تھے جس کے باعث ادارے کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی، عدالت کے احکامات کے باوجود بعض انتظامی معاملات میں رکاوٹیں پیدا کی گئیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ نرسنگ کونسل میں اصلاحات کے لئے آرڈیننس جاری کیا گیا جس کے تحت ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ نئے نظام کے تحت کونسل کے صدر کے لئے گریڈ 22 کے افسر کی شرط رکھی گئی ہے تاکہ احتساب اور شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ 19ارکان پر مشتمل نئی کونسل تشکیل دی گئی ہے جس میں صوبوں اور گلگت بلتستان کی نمائندگی شامل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کو مستقل قانون کی شکل دینے کے لئے معاملہ وزیراعظم کے پاس بھجوایا جا چکا ہے۔وفاقی وزیر صحت نے واضح کیا کہ اگر کسی مرحلے پر آرڈیننس کی مدت ختم بھی ہو جائے تو اس کے دوران کئے گئے فیصلے قانونی تحفظ کے حامل رہیں گے اور سابق انتظامیہ کی واپسی کا تاثر درست نہیں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارچ 2025 کے بعد کسی نئے نرسنگ کالج کی منظوری نہیں دی گئی تھی جبکہ دو سال سے انسپکشن کا نظام بھی غیر فعال تھا۔ نئی کونسل نے 63 اداروں کی انسپکشن رپورٹس کا جائزہ لینے کے بعد 55 کالجوں کو منظوری دی ہے جن میں سرکاری اور نجی دونوں ادارے شامل ہیں۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس وقت 425 نرسنگ کالجوں کی درخواستیں زیر التوا ہیں جن کی انسپکشن ابھی باقی ہے۔

انہوں نے والدین اور طلبہ کو مشورہ دیا کہ کسی بھی نرسنگ ادارے میں داخلہ لینے سے پہلے اس کی رجسٹریشن اور منظوری کی تصدیق ضرور کریں۔انہوں نے کرپشن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگر نئی کونسل کے کسی رکن کے خلاف مالی بے ضابطگی یا رشوت ستانی کا ثبوت پیش کیا جائے تو فوری تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماضی میں بعض عناصر نرسنگ شعبے کو ذاتی مفادات کے لئے استعمال کرتے رہے ہیں۔وفاقی وزیر صحت نے اعلان کیا کہ نرسنگ کونسل کے تمام نظام کو ڈیجیٹلائز کیا جائے گا تاکہ شفافیت، احتساب اور میرٹ کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام بنایا جائے گا جس میں بدعنوانی اور غیر قانونی مداخلت کے امکانات کم سے کم ہوں۔پریس کانفرنس کے اختتام پر مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت نرسنگ کے شعبے کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے، افرادی قوت میں اضافہ کرنے اور عالمی معیار کی تربیت فراہم کرنے کے لئے پرعزم ہے۔